Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tazkir ul Quran Tafsir: Sad Ayah 25

38:25
فغفرنا له ذالك وان له عندنا لزلفى وحسن ماب ٢٥
فَغَفَرْنَا لَهُۥ ذَٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَـَٔابٍۢ ٢٥
فَغَفَرۡنَاﲽ
لَهُۥﲾ
ذَٰلِكَۖﲿﳀ
وَإِنَّﳁ
لَهُۥﳂ
عِندَنَاﳃ
لَزُلۡفَىٰﳄ
وَحُسۡنَﳅ
مَـَٔابٖﳆ
٢٥ﳇ
So We forgave that for him. And he will indeed have ˹a status of˺ closeness to Us and an honourable destination!
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 38:23 to 38:25

آنے والے دونوں آدمیوں نے جو مقدمہ پیش کیا وہ کوئی حقیقی مقدمہ نہ تھا بلکہ تمثیل کی زبان میں خودحضرت داؤد علیہ السلام کی کسی بات پر انھیں متنبہ کرنا تھا۔ چنانچہ مقدمہ کا فیصلہ دیتے دیتے آپ کو اپنا وہ معاملہ یاد آگیا جو مذکورہ مثال سے ملتا جلتا تھا۔ آپ نے فوراً اس سے رجوع کرلیا اور اللہ کے آگے سجدہ میں گر پڑے۔

حضرت داؤد کو اس وقت زبردست اقتدار حاصل تھا۔ مگر انھوں نے آنے والوں کو نہ تو کوئی سزا دی اور نہ انھیں برا بھلا کہا۔یہی اللہ کے سچے بندوں کا طریقہ ہے۔ ان کے اندر کسی معاملہ میں ضد نہیں ہوتی۔ انھیں جب ان کی کسی خامی کی طرف توجہ دلائی جائے تو وہ فوراً اس کو مان کر اپنی اصلاح کرلیتے ہیں، خواہ وہ بااقتدار حیثیت کے مالک ہوں اور خواہ متوجہ کرنے والے نے انھیں بے ڈھنگے طریقہ سے متوجہ کیا ہو۔