Sign in
Sign in
Sign in
Select Language
37:82
ثم اغرقنا الاخرين ٨٢
ثُمَّ أَغْرَقْنَا ٱلْـَٔاخَرِينَ ٨٢
ثُمَّ
أَغۡرَقۡنَا
ٱلۡأٓخَرِينَ
٨٢
Then We drowned the others.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 37:75 to 37:82

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔

حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔