Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tazkir ul Quran Tafsir: Ar-Rum Ayah 56

30:56
وقال الذين اوتوا العلم والايمان لقد لبثتم في كتاب الله الى يوم البعث فهاذا يوم البعث ولاكنكم كنتم لا تعلمون ٥٦
وَقَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ وَٱلْإِيمَـٰنَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِى كِتَـٰبِ ٱللَّهِ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْبَعْثِ ۖ فَهَـٰذَا يَوْمُ ٱلْبَعْثِ وَلَـٰكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ٥٦
وَقَالَﲑ
ٱلَّذِينَﲒ
أُوتُواْﲓ
ٱلۡعِلۡمَﲔ
وَٱلۡإِيمَٰنَﲕ
لَقَدۡﲖ
لَبِثۡتُمۡﲗ
فِيﲘ
كِتَٰبِﲙ
ٱللَّهِﲚ
إِلَىٰﲛ
يَوۡمِﲜ
ٱلۡبَعۡثِۖﲝﲞ
فَهَٰذَاﲟ
يَوۡمُﲠ
ٱلۡبَعۡثِﲡ
وَلَٰكِنَّكُمۡﲢ
كُنتُمۡﲣ
لَاﲤ
تَعۡلَمُونَﲥ
٥٦ﲦ
But those gifted with knowledge and faith will say ˹to them˺, “You did actually stay—as destined by Allah—until the Day of Resurrection. So here is the Day of Resurrection ˹which you denied˺! But you did not know ˹it was true˺.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 30:54 to 30:57

انسان پیدا ہوتا ہے تووہ نہایت کمزور بچہ ہوتاہے۔ پھر درمیان میں طاقت اور جوانی کے کچھ سال گزارنے کے بعد دوبارہ بڑھاپے کی کمزوری آجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی طاقت اس کی اپنی نہیں ہے۔ وہ اس کو دینے سے ملتی ہے۔ یہ دینے والے کے اختیار میں ہے کہ وہ جب چاہے دے اور جب چاہے واپس لے لے۔

دنیا کی زندگی میں آدمی آخرت کےلیے فکر مند نہیں ہوتا ۔ کیوں کہ قیامت اس کو بہت دور کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ صرف بے خبری کی بات ہے۔ قیامت جب آئے گی تو اس کو ایسا معلوم ہوگا کہ بس ایک گھڑی پچھلی دنیا میں رہنا ہوا تھا کہ اگلی دنیا کا مرحلہ پیش آگیا۔