Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Baqarah 2:82

2:82
والذين امنوا وعملوا الصالحات اولايك اصحاب الجنة هم فيها خالدون ٨٢
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ ٨٢
وَٱلَّذِينَﲛ
ءَامَنُواْﲜ
وَعَمِلُواْﲝ
ٱلصَّٰلِحَٰتِﲞ
أُوْلَٰٓئِكَﲟ
أَصۡحَٰبُﲠ
ٱلۡجَنَّةِۖﲡﲢ
هُمۡﲣ
فِيهَاﲤ
خَٰلِدُونَﲥ
٨٢ﲦ
And those who believe and do good will be the residents of Paradise. They will be there forever.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

آیت 82 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اب نیک عمل کے بارے میں ہر شخص نے اپنا ایک تصور اور نظریہ بنا رکھا ہے۔ جبکہ نیک عمل سے قرآن مجید کی مراد دین کے سارے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔ محض کوئی خیراتی ادارہ یا کوئی یتیم خانہ کھول دینا یا بیواؤں کی فلاح و بہبود کا انتظام کردینا اور خود سودی لین دین اور دھوکہ فریب پر مبنی کاروبار ترک نہ کرنا نیکی کا مسخ شدہ تصور ہے۔ جبکہ نیکی کا جامع تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ تمام فرائض کی بجاآوری ہو ‘ دین کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں ‘ اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد اور مجاہدہ کیا جائے اور اس کے دین کو قائم اور سربلند کرنے کی جدوجہد کی جائے۔ ّ ُ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ج ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ