تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
١٦:٢
اولايك الذين اشتروا الضلالة بالهدى فما ربحت تجارتهم وما كانوا مهتدين ١٦
أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَرَوُا۟ ٱلضَّلَـٰلَةَ بِٱلْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَـٰرَتُهُمْ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ ١٦
أُوْلَٰٓئِكَ
ٱلَّذِينَ
ٱشۡتَرَوُاْ
ٱلضَّلَٰلَةَ
بِٱلۡهُدَىٰ
فَمَا
رَبِحَت
تِّجَٰرَتُهُمۡ
وَمَا
كَانُواْ
مُهۡتَدِينَ
١٦
أولئك المنافقون باعوا أنفسهم في صفقة خاسرة، فأخذوا الكفر، وتركوا الإيمان، فما كسبوا شيئًا، بل خَسِروا الهداية. وهذا هو الخسران المبين.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
ایمان فروش لوگ ٭٭

سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن مسعود اور بعض دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم سے مروی ہے کہ انہوں نے ہدایت چھوڑ دی اور گمراہی لے لی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انہوں نے ایمان کے بدلے کفر قبول کیا۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایمان لائے پھر کافر ہو گئے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہدایت پر گمراہی کو پسند کرتے ہیں۔“

جیسے اور جگہ قوم ثمود کے بارے میں ہے «وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى» [32-السجدة:17] ‏ یعنی ” باوجود اس کے کہ ہم نے قوم ثمود کو ہدایت سے روشناس کر دیا مگر پھر بھی انہوں نے اس رہنمائی کی جگہ اندھے پن کو پسند کیا “۔ مطلب یہ ہوا کہ منافقین ہدایت سے ہٹ کر گمراہی پر آ گئے اور ہدایت کے بدلے گمراہی لے لی گویا ہدایت کو بیچ کر گمراہی خرید لی۔ اب ایمان لا کر پھر کافر ہوئے ہوں خواہ سرے سے ایمان ہی نصیب نہ ہوا ہو اور ان منافقین میں دونوں قسم کے لوگ تھے۔

چنانچہ قرآن میں ہے آیت «‏ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ» [63-المنافقون:3] ‏ ” یہ اس لیے ہے کہ یہ لوگ ایمان لا کر پھر کافر ہو گئے پس ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی “ اور ایسے بھی منافق تھے جنہیں ایمان نصیب ہی نہ ہوا پس نہ تو انہیں اس سودے میں فائدہ ہوا، نہ راہ ملی، بلکہ ہدایت کے چمنستان سے نکل کر گمراہی کے خارزار میں، جماعت کے مضبوط قلعہ سے نکل کر تنہائیوں کی تنگ جیل میں، امن کے وسیع میدان سے نکل کر خوف کی اندھیری کوٹھری میں اور سنت کے پاکیزہ گلشن سے نکل کر بدعت کے سنسان جنگل میں آ گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:316/1] ‏

صفحہ نمبر133