وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۸:۲۷
فلما جاءها نودي ان بورك من في النار ومن حولها وسبحان الله رب العالمين ٨
فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِىَ أَنۢ بُورِكَ مَن فِى ٱلنَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٨
فَلَمَّا
جَآءَهَا
نُودِيَ
أَنۢ
بُورِكَ
مَن
فِي
ٱلنَّارِ
وَمَنۡ
حَوۡلَهَا
وَسُبۡحَٰنَ
ٱللَّهِ
رَبِّ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
٨
پس چون به آن (آتش) رسید، ندا داده شد که: «مبارک باد کسی‌که در آتش است و کسی‌که پیرامون آن است. و منزه است الله که پروردگار جهانیان است.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 27:1 تا 27:8

قبطی کی موت کے واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے مدین چلے گئے تھے۔ مدین کا علاقہ بحراحمر کی اس شاخ کے مشرقی ساحل پر تھا جس کو خلیج عقبہ کہاجاتاہے۔ حضرت موسیٰ نے یہاں تقریباً آٹھ سال گزارے اس کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر واپس جانے کے لیے روانہ ہوئے۔ اس سفر میں وہ بحر احمر کی دونوں شاخوں کے درمیان اس پہاڑ کے کنارے پہنچے جس کا قدیم نام طور تھا اور اب اس کو جبل موسیٰ (Gebel Musa) کہاجاتا ہے۔

یہ غالباً سردیوں کی رات تھی۔ حضرت موسیٰ کو دور پہاڑ پر ایک آگ سی چیز نظر آئی۔ وہ اس کی طرف روانہ ہوئے۔ مگر قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ خدا کی تجلی تھی، نہ کہ کوئی انسانی آگ۔

پہاڑ کے اوپر جہاں حضرت موسیٰ نے روشنی دیکھی تھی وہاں آج بھی ایک قدیم درخت موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہی وہ درخت ہے جس کے اوپر سے حضرت موسیٰ کو خدا کی آواز سنائی دی تھی۔ یہاں بعد کو عیسائی حضرات نے گرجا اور خانقاہ تعمیر کردیا جو آج بھی لوگوں کے ليے زیارت گاہ بنا ہوا ہے۔