Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tazkir ul Quran Tafsir: An-Naml Ayah 75

27:75
وما من غايبة في السماء والارض الا في كتاب مبين ٧٥
وَمَا مِنْ غَآئِبَةٍۢ فِى ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ إِلَّا فِى كِتَـٰبٍۢ مُّبِينٍ ٧٥
وَمَاﳉ
مِنۡﳊ
غَآئِبَةٖﳋ
فِيﳌ
ٱلسَّمَآءِﳍ
وَٱلۡأَرۡضِﳎ
إِلَّاﳏ
فِيﳐ
كِتَٰبٖﳑ
مُّبِينٍﳒ
٧٥ﳓ
For there is nothing hidden in the heavens or the earth without being ˹written˺ in a perfect Record.1 
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 27:70 to 27:75

’’غم نہ کرو‘‘ کا مطلب داعیٔ حق کو غم سے روکنا نہیں ہے۔ غم تو داعی کی غذا ہے۔ یہ دراصل حق کی بے بسی کی تردید ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سارے ناموافق حالات کے باوجود بہر حال حق کو اور حق کا ساتھ دینے والوں کو کامیابی حاصل ہوگی۔

حق کے داعی کے مخالفین جب حق کے داعی کی مخالفت کرتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک شخص کی مخالفت کررہے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ خود خدا کی مخالفت ہے، نہ کہ محض ایک شخص کی مخالفت۔ یہ صورت حال صرف اس وقت تک باقی رہـتی ہے جب تک امتحان کی مدت ختم نہ ہوئی ہو۔ امتحان کی مقررہ مدت ختم ہوتے ہی خدا کی طاقتیں ظاہر ہوجاتی ہیں اور وہ مخالفین کا اس طرح خاتمہ کردیتی ہیں جیسے کہ کبھی ان کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔ آدمی کے ليے اس سے بڑی کوئی نادانی نہیں کہ وہ آزمائش کی فرصت کو اپنے ليے سرکشی کی فرصت کے ہم معنی بنالے۔