Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Asy-Syu'ara' 26:135

26:135
اني اخاف عليكم عذاب يوم عظيم ١٣٥
إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ ١٣٥
اِنِّیْۤ
اَخَافُ
عَلَیْكُمْ
عَذَابَ
یَوْمٍ
عَظِیْمٍ
۟ؕ
sesungguhnya aku takut kamu akan ditimpa azab pada hari yang besar."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 26:132 hingga 26:135

واتقوا ……عظیم (135)

حضرت بن کو پہلے رحمالی نعمت یاد دلاتے ہیں کہ تم جانتے ہو کہ تمہیں کیا کیا انعامات سے نوازا گیا۔ جو کچھ تم ہو ، وہ تمہارے سامنے ہے۔ تم اس حال میں مست ہو لیکن بعض اہم چیزوں کا وہ نام بھی لیتے ہیں۔ تمہیں جانور دیئے ، تمہیں اولاد دی ، باغات دیئے اور پانی کے چشمے دیئے۔ اس دور کی ترقی میں یہی چیزیں اہم تھیں۔ جبکہ یہ چیز ہر دور کی ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں اور آج بھی اہم ہیں۔ حضرت ان لوگوں کو ایک عظیم دن کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ کیونکہ جو روش انہوں نے اختیار کر لیت ھی اس کی وجہ سے وہ عذاب کے مستحق ہوگئے تھے اور حضرت ہود چونکہ انہی کے بھائی تھے۔ اس لئے وہ بڑی شفقت سے انہیں ڈرا رہ تھے نہایت والہانہ انداز میں۔ کیونکہ عذاب ان کو بصیرت نبوت کے ذریعے یقینی نظر آ رہا تھا۔

لیکن ان کی یہ مشفقانہ نصیحت اور ڈر اواہن کے دلوں پر اثر نہ کر رہا تھا جو بہت ہی سخت ہوگئے تھے اور عناد اور سرکشی پر تلے ہوئے تھے۔