Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Hajj Ayah 2

22:2
يوم ترونها تذهل كل مرضعة عما ارضعت وتضع كل ذات حمل حملها وترى الناس سكارى وما هم بسكارى ولاكن عذاب الله شديد ٢
يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى ٱلنَّاسَ سُكَـٰرَىٰ وَمَا هُم بِسُكَـٰرَىٰ وَلَـٰكِنَّ عَذَابَ ٱللَّهِ شَدِيدٌۭ ٢
يَوۡمَﱌ
تَرَوۡنَهَاﱍ
تَذۡهَلُﱎ
كُلُّﱏ
مُرۡضِعَةٍﱐ
عَمَّآﱑ
أَرۡضَعَتۡﱒ
وَتَضَعُﱓ
كُلُّﱔ
ذَاتِﱕ
حَمۡلٍﱖ
حَمۡلَهَاﱗ
وَتَرَىﱘ
ٱلنَّاسَﱙ
سُكَٰرَىٰﱚ
وَمَاﱛ
هُمﱜ
بِسُكَٰرَىٰﱝ
وَلَٰكِنَّﱞ
عَذَابَﱟ
ٱللَّهِﱠ
شَدِيدٞﱡ
٢ﱢ
The Day you see it, every nursing mother will abandon what she is nursing, and every pregnant woman will deliver her burden ˹prematurely˺. And you will see people ˹as if they were˺ drunk, though they will not be drunk; but the torment of Allah is ˹terribly˺ severe.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 22:1 to 22:4

’’دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچہ کو بھول جائے گی اور حمل والی عورت اپنا حمل گرادے گی‘‘— یہ تمثیل کی زبان میں قیامت کی ہولناکی کا بیان ہے۔ یعنی اس دن لوگوں کا یہ حال ہوگا کہ اگر ماں کی گود میں دودھ پینے والا بچہ ہو تو گھبراہٹ کی بنا پر وہ اپنے بچہ کو بھول جائے۔ اور اگر کوئی حاملہ عورت ہو تو شدت حول سے اس کا حمل ساقط ہوجائے۔

ہماری موجودہ دنیا میں جو بھونچال آتے ہیں وہ قیامت کے واقعہ کا ہلکا سا نمونہ ہیں۔ قیامت کا سب سے بڑا بھونچال جب آئے گا تو آدمی ہر وہ چیز بھول جائے گا جس کو اہمیت دینے کی وجہ سے وہ قیامت کے دن کو بھولا ہوا تھا۔حتیٰ کہ اپنی عزیز ترین چیز بھی اس دن اس کو یاد نہ رہے گی۔

پیغمبر کی بات علم کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ وہ دلائل سے اس کو ثابت شدہ بناتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے سے باہر کسی صداقت کا اعتراف کرنا نہیں چاہتے وہ اپنے کو برسر حق ظاہر کرنے کے ليے پیغمبر کی بات میں جھوٹی بحثیں نکالتے ہیں۔ اس قسم کی روش خدا کے مقابلہ میں سرکشی کرنے کے ہم معنی ہے۔ جو لوگ اس طرح کی بحثوں کو حق کا پیغام نہ ماننے کے لیے عذر بنائیں وہ گویا شیطان کو اپنا مشیر بنائے ہوئے ہیں۔ وہ اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ خدا کے خوف سے خالی ہیں۔ بے خوفی کی نفسیات آدمی کو اس سے محروم کردیتی ہے کہ وہ حق کو پہچانے اور اس کا اعتراف کرے۔ وہ نہایت آسانی سے شیطان کا معمول بن جاتا ہے۔ ایسا آدمی صرف قیامت کی چنگھاڑ سے جاگے گا۔ مگر قیامت کا زلزلہ ایسے لوگوں کے ليے صرف جہنم کا دروازہ کھولنے کے ليے آتا ہے، نہ کہ ان کو ہدایت کا راستہ دکھانے کے ليے۔