Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Hajj Ayah 13

22:13
يدعو لمن ضره اقرب من نفعه لبيس المولى ولبيس العشير ١٣
يَدْعُوا۟ لَمَن ضَرُّهُۥٓ أَقْرَبُ مِن نَّفْعِهِۦ ۚ لَبِئْسَ ٱلْمَوْلَىٰ وَلَبِئْسَ ٱلْعَشِيرُ ١٣
يَدۡعُواْﲳ
لَمَنﲴ
ضَرُّهُۥٓﲵ
أَقۡرَبُﲶ
مِنﲷ
نَّفۡعِهِۦۚﲸﲹ
لَبِئۡسَﲺ
ٱلۡمَوۡلَىٰﲻ
وَلَبِئۡسَﲼ
ٱلۡعَشِيرُﲽ
١٣ﲾ
They invoke those whose worship leads to harm, not benefit. What an evil patron and what an evil associate!
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 22:12 to 22:14

خدا کو چھوڑنا ہمیشہ غیرخدا پر بھروسہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی خدا کے سچے راستہ سے ہٹتا ہے یا اس کو نظر انداز کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور چیز پر بھروسہ کيے ہوئے ہوتاہے۔ یہ غیر خدا کبھی کوئی بت ہوتاہے اور کبھی بت کے سوا کوئی دوسری چیز۔

مگر اس دنیا میں ایک خدا کے سوا کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔ اس ليے آدمی جب خدا کے سوا دوسروں پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ طاقت ور کو چھوڑ کر ایسی موہوم چیز کا سہارا پکڑتا ہے جس کا بحیثیت طاقت کوئی وجودنہیں۔ اس سے زیادہ بھول کی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔

مزید یہ کہ اپنے آپ کو خدا کے ساتھ وابستہ کرنا صرف ضرورت کا تقاضا نہیں ہے بلکہ وہ حقیقت کا تقاضا بھی ہے۔ وہ انسان کے اوپر خدا کا حق ہے۔ اس لیے جب آدمی خدا کو چھوڑ کر موہوم چیزوں کی طرف جاتا ہے تو اس کا نقصان فوراً اس کے لیے مقدر ہوجاتا ہے۔ اور جہاں تک اس کے نفع کا سوا ل ہے وہ تو کبھی ملنے والا نہیں۔

غیر خدا کو سہارا بنانے والے بظاہر اس کو اپنے سے اونچا سمجھتے ہیں۔ ورنہ وہ اس کو سہارا ہی نہ بنائیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ غیر خدا جس کو سہارا بنایا جائے اور وہ لوگ جو انھیں اپناسہارا بنائیں دونوں یکساں درجہ میں مجبور اور بے طاقت ہیں۔

ایسی دنیا میں جو لوگ اس کا ثبوت دیں کہ انھوں نے ماحول سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ غیر خداؤں کے پرفریب ہجوم میں انھوں نے خداکو دریافت کیا۔ اورپھر صرف آخرت کی خاطر اپنی زندگی کو خدا کی پسند کے راستے پر ڈال دیا وہ اس دنیا کی سب سے قیمتی روحیں ہیں۔ خدا ان کی اس طرح قدر دانی کرے گا کہ ان کو جنت کی کامل دنیا میں بسائے گا۔ جہاں وہ ابدی طور پر عیش کرتے رہیں۔