Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Taha 20:35

20:35
انك كنت بنا بصيرا ٣٥
إِنَّكَ كُنتَ بِنَا بَصِيرًۭا ٣٥
اِنَّكَ
كُنْتَ
بِنَا
بَصِیْرًا
۟
sesungguhnya Engkau Maha Melihat (keadaan) kami."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

انک کنت بنا بصیرا (02 : 53) ” تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگران ہے “۔ آپ کو ہمارا حال اچھی طرح معلوم ہے ہم ضعیف و قصور کھتے ہیں اور آپ کو ہماری ضروریات کا اچھی طرح علم ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بہت ہی طویل سوال کیا اور اپنی ضروریات بتائیں۔ اپنی کمزوری کا اظہار کیا ‘ مدد ‘ سہولیات اور مسلسل رابطے کی ضرورت کا ذکر کیا۔ رب تعالیٰ تو سنتا ہے اور جانتا ہے ۔ آپ کے سامنے موسیٰ (علیہ السلام) ضعیف ہیں۔ مانگتے ہیں اور بات کرتے جاتے ہیں۔ تو رب ذوالجلال اپنے مہمان کو شرمندہ نہیں فرماتے ‘ کوئی سوال رد نہیں کرتے ‘ منظوری میں دیر بھی نہیں کرتے۔