سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: طه 20:134

20:134
ولو انا اهلكناهم بعذاب من قبله لقالوا ربنا لولا ارسلت الينا رسولا فنتبع اياتك من قبل ان نذل ونخزى ١٣٤
وَلَوْ أَنَّآ أَهْلَكْنَـٰهُم بِعَذَابٍۢ مِّن قَبْلِهِۦ لَقَالُوا۟ رَبَّنَا لَوْلَآ أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًۭا فَنَتَّبِعَ ءَايَـٰتِكَ مِن قَبْلِ أَن نَّذِلَّ وَنَخْزَىٰ ١٣٤
وَلَوْ
اَنَّاۤ
اَهْلَكْنٰهُمْ
بِعَذَابٍ
مِّنْ
قَبْلِهٖ
لَقَالُوْا
رَبَّنَا
لَوْلَاۤ
اَرْسَلْتَ
اِلَیْنَا
رَسُوْلًا
فَنَتَّبِعَ
اٰیٰتِكَ
مِنْ
قَبْلِ
اَنْ
نَّذِلَّ
وَنَخْزٰی
۟
اور اگر ہم اس (قرآن کے نزول) سے پہلے ہی انہیں عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ لازماً کہتے کہ (اے پروردگار !) تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

یہ لوگ اس وقت ذلیل اور رسوا نہیں ہوئے تھے جب ان پر قرآن کی یہ آیات پڑھی جا رہی تھیں بلکہ یہ تو ان کے فیصلہ شدہ انجام کی ایک تصویر کشی ہے جس میں وہ لازماً رہیں گے۔ یہ آیات ان پر بطور اتمام حجت آگئیں تاکہ وہ قیامت کے دن ایسا نہ کہہ سکیں اور ان کے لئے کوئی عذر و معذرت باقی نہ رہے کہ ہمارے لئے کوئی پیغام نہیں آیا۔

جب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کا حتمی انجام یہ ہے کہ یہ ذلیل اور رسوا ہونے والے ہیں تو قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو ، ان کا فیصلہ تو ہوچکا ہے۔

حف القلم بما ھو کائن پریشان نہ ہوں کہ یہ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ اعلان کردیں کہ تم بھی انتظار کرو میں بھی انتظار کرتا ہوں۔