تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
١٠٦:٢٠
فيذرها قاعا صفصفا ١٠٦
فَيَذَرُهَا قَاعًۭا صَفْصَفًۭا ١٠٦
فَيَذَرُهَا
قَاعٗا
صَفۡصَفٗا
١٠٦
فيترك الأرض حينئذ منبسطة مستوية ملساء لا نبات فيها، لا يرى الناظر إليها مِن استوائها مَيْلا ولا ارتفاعًا ولا انخفاضًا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:99إلى 20:108

قیامت میں موجودہ زمین ایک وسیع اور ہموار فرش کی مانند بنادی جائے گی۔ اس وقت یہاںنہ پہاڑوں کی بلندیاں ہوں گی اور نہ دریاؤں کی گہرائیاں۔ تمام انسان دوبارہ پیدا ہوکر اس زمین پر جمع کيے جائیں گے۔ دنیا میں خدا کی آواز خدا کے داعی کی زبان سے بلند ہوتی ہے تو لوگ اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ مگر قیامت میں جب خدا براہِ راست لوگوں کو پکارے گا تو سارے انسان کسی ادنیٰ انحراف کے بغیر اس کی آواز کی طرف چل پڑیںگے۔ لوگوں پر اس قدر ہول طاری ہوگا کہ کسی کی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکلے گا۔ لوگوں کے چلنے کی سرسراہٹ کے سوا کوئی اور آواز نہ ہوگی جو اس وقت لوگوں کو سنائی دے۔