سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: مريم 19:67

19:67
اولا يذكر الانسان انا خلقناه من قبل ولم يك شييا ٦٧
أَوَلَا يَذْكُرُ ٱلْإِنسَـٰنُ أَنَّا خَلَقْنَـٰهُ مِن قَبْلُ وَلَمْ يَكُ شَيْـًۭٔا ٦٧
اَوَلَا
یَذْكُرُ
الْاِنْسَانُ
اَنَّا
خَلَقْنٰهُ
مِنْ
قَبْلُ
وَلَمْ
یَكُ
شَیْـًٔا
۟
کیا انسان یہ بات یاد نہیں کرتا کہ ہم نے ہی اسے پیدا کیا تھا اس سے پہلے جبکہ وہ کچھ بھی نہیں تھا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

اولا یذکرالانسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولم یک شیئا (91 : 67) ” کیا انسان کو یان نہیں آتا کہ ہم نے پہلے اس کو پیدا کرچکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا ؟ “

آگے جا کر اس انکار اور زبردستی کی انکار پر ذرا تہدید آمیز لہجے میں بات کی جاتی ہے۔ اللہ اپنی ذات کی قسم اٹھاتے ہیں اور ذات باری کی قسم ایک قسم ہے کہ لازماً ان لوگوں کو اور تمام لوگوں کو اٹھایا جائیگا۔ ان کو اٹھا کر میدان حشر میں لایا جائے گا اور یہ ایک فیصلہ شدہ اور طے شدہ امر ہے۔