Sign in
🎯 Stay on track!
Create My Goal
🎯 Stay on track!
Create My Goal
Sign in
Sign in
ولا اقول لكم عندي خزاين الله ولا اعلم الغيب ولا اقول اني ملك ولا اقول للذين تزدري اعينكم لن يوتيهم الله خيرا الله اعلم بما في انفسهم اني اذا لمن الظالمين ٣١
وَلَآ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ وَلَآ أَقُولُ إِنِّى مَلَكٌۭ وَلَآ أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِىٓ أَعْيُنُكُمْ لَن يُؤْتِيَهُمُ ٱللَّهُ خَيْرًا ۖ ٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِىٓ أَنفُسِهِمْ ۖ إِنِّىٓ إِذًۭا لَّمِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٣١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) ان کے سامنے اپنی شخصیت اور رسالت کی حقیقت نہایت ہی واضح طور پر رکھتے ہیں۔ بالکل سادہ اور غیر مصنوعی حقائق کی شکل میں۔ رسول کی شخصیت اور منصب رسالت کو دنیا کی کھوٹی قدروں سے بالکل الگ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ حقیقت کو سمجھ سکیں اور یہ جان سکیں کہ اللہ کے ہاں حقیقی قدریں کیا ہیں تاکہ ان کے سامنے دنیا کی ظاہری قدریں الگ ہوجائیں اور حقیقی قدریں صاف اور ستھری ہوکر واضح ہوجائیں تاکہ رسول اور رسالت اپنی اصلی شکل میں ، بغیر کسی ملمع کاری کے ان کے سامنے ہوں چاہے وہ قبول کریں یا نہ کریں۔ چناچہ کہا جاتا ہے :

وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ : " اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں " اس لیے میں نہ دولت مندی کا دعوی کرتا ہوں اور نہ یہ قدرت رکھتا ہوں کہ تمہیں دولت مند بنا دوں۔

وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ : " نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں "۔ تاکہ میں کسی ایسی قوت کا دعوی کروں جو عام انسانوں کے پاس نہیں ہے ، ماسوائے تعلق رسالت کے۔

وَلَآ اَقُوْلُ اِنِّىْ مَلَكٌ: " نہ میرا دعوی ہے کہ میں فرشتہ ہوں "۔ تاکہ میں عام انسانوں کے مقابلے میں کسی بلند تر جھوٹی صفت کا دعوی کروں اور تمہاری نظروں میں ، میں بلند تر ہوجاؤں اور اپنی قیادت اور سیادت تم سے منوا سکوں۔

وَّلَآ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِيْٓ اَعْيُنُكُمْ لَنْ يُّؤْتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيْرًا : " اور یہ بھی میں نہیں کہہ سکتا کہ جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقارت سے دیکھتی ہیں ، انہیں اللہ نے کوئی بھلائی نہیں دی "۔ تاکہ اس طرح میں سوسائٹی کے ان مستکبرین کو راضی کرسکوں یا اس طرح میں تمہاری دنیاوی سطحی اقدار اور عارضی رسومات کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاؤں۔

اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ : " ان کے نفس کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے " ان لوگوں کی حقیقت کا حال بھی اللہ ہی جانتا ہے۔ میں ان کے ساتھ ان کے ظاہری حالات کے مطابق ہی اچھا معاملہ کرسکتا ہوں اور ان کا ظاہری حال اس بات کا مستحق ہے کہ میں ان کی قدر کروں اور یہ امید رکھوں کہ اللہ ان کا انجام اچھا کرے گا۔

اِنِّىْٓ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ : " اگر میں ایسا کہوں تو ظالم ہوں گا "۔ اگر مذکورہ بالا دعوں میں سے کوئی دعوی بھی میں نے کیا۔ اس صورت میں ، گویا میں سچائی کے ساتھ ظلم کروں گا حالانکہ مجھے حکم یہ دیا گیا ہے کہ میں سچائی کی تبلیغ کروں اور میں اپنے آپ کو غضب الٰہی کا مستحق ٹھہرا کر خود اپنے اوپر بھی ظلم کروں گا اور لوگوں کے ساتھ بھی ظلم کروں گا کیونکہ میں ان کو وہ مقام دوں گا جو انہیں اللہ نے نہیں دیا ہے۔

اس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی ذات اور اپنے منصب رسالت سے ان جھوٹی اقدار کو جھاڑ دیتے ہیں جو ان کی قوم نے تصور رسول اور تصور رسالت کے ساتھ وابستہ کر رکھی تھیں۔ اور اپنی قوم کے سامنے رسول اور رسالت کو اپنے حقیقی روپ میں پیش فرماتے ہیں اور ان تمام سطحی اور جعلی تصورات سے ان حقائق کو پاک کرکے پیش فرماتے ہیں کیونکہ کسی بھی حقیقت کو مصنوعی رنگ و روغن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ سچائی کو اپنے حقیقی روپ میں اپنی حقیقی قوت کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور نہایت ہی محبت بھری اپیل کے ساتھ پیش کرتے ہیں تاکہ وہ اس کی طرف متوجہ ہوں اور اگر ان کی قسمت میں کچھ لکھا ہے تو اپنا حصہ وصول کرلیں۔ غرض حضرت نوح کی دعوت میں نہ ہیر پھیر ہے ، نہ کوئی کھوٹ ہے ، نہ کوئی بناوٹ ہے ، نہ کسی حقیقی قدر قدر کی قربانی ہے۔ سیدھی سادی بات اپنے حقیقی روپ میں وہ پیش فرماتے ہیں۔ آپ اللہ کے سوا کسی اور کی رضامندی نہیں چاہتے اور پوری انسانی تاریخ کو دعوت پیش کرنے کا ایک نمونہ دیتے ہیں کہ سچائی کو اپنے حقیقی روپ میں پیش کرو ، بغیر کسی ہیر پھیر کے ، بغیر اس کے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی رضامندی مطلوب ہو۔ البتہ نہایت ہی ترغیبی اسلوب میں ہو۔

Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved