Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
11:119
الا من رحم ربك ولذالك خلقهم وتمت كلمة ربك لاملان جهنم من الجنة والناس اجمعين ١١٩
إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ ۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ ۗ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ ١١٩
إِلَّا
مَن
رَّحِمَ
رَبُّكَۚ
وَلِذَٰلِكَ
خَلَقَهُمۡۗ
وَتَمَّتۡ
كَلِمَةُ
رَبِّكَ
لَأَمۡلَأَنَّ
جَهَنَّمَ
مِنَ
ٱلۡجِنَّةِ
وَٱلنَّاسِ
أَجۡمَعِينَ
١١٩
Eğer Rabbin dileseydi insanları tek bir ümmet kılardı. Fakat, Rabbinin merhamet ettikleri bir yana, hala ayrılıktadırlar, esasen onları bunun için yaratmıştır. Rabbinin "And olsun ki cehennemi hep insan ve cin ile dolduracağım" sözü yerine gelmiştir.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

آیت 119 اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ ۭ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تخلیق کے اندر یہ اختلاف اور تنوع خود رکھا ہے۔ دنیا میں اربوں انسان ہیں مگر ان میں کوئی سے دو انسانوں کے مزاج شکل و صورت اور آواز حتیٰ کہ انگلیوں کے نشانات آپس میں نہیں ملتے۔ لہٰذا اللہ انسانوں کو پیدا ہی اسی انداز پر کرتا ہے کہ ان میں تنوع اور انفرادیت قائم رہے۔ ایک حدیث نبوی کی رو سے انسان بھی معدنیات کی طرح ہیں۔ چناچہ جس طرح معدنیات کی بیشمار اقسام ہیں مگر ہر ایک کی اپنی خصوصیات اور اپنی پہچان ہے یہی معاملہ انسانوں کا ہے۔وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ یعنی تمام مشرک ‘ سرکش ‘ نافرمان اور گناہگار جنوں اور انسانوں کو اکٹھا کر کے جہنم کا ایندھن بناؤں گا اور یوں ان سے جہنم کو بھر دوں گا۔ اس نے جنت بنائی ہے تو اسے بھی آباد کرنا ہے اور جہنم بنائی ہے تو اسے بھی ایندھن فراہم کرنا ہے۔