登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Al-Baqarah 阿雅 72

2:72
واذ قتلتم نفسا فاداراتم فيها والله مخرج ما كنتم تكتمون ٧٢
وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًۭا فَٱدَّٰرَْٰٔتُمْ فِيهَا ۖ وَٱللَّهُ مُخْرِجٌۭ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ ٧٢
وَإِذۡﱮ
قَتَلۡتُمۡﱯ
نَفۡسٗاﱰ
فَٱدَّٰرَٰءۡتُمۡﱱ
فِيهَاۖﱲﱳ
وَٱللَّهُﱴ
مُخۡرِجٞﱵ
مَّاﱶ
كُنتُمۡﱷ
تَكۡتُمُونَﱸ
٧٢ﱹ
当时,你们杀了一个人,你们互相抵赖。而真主是要揭穿你们所隐讳的事实的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
2:67至2:73节的经注

حضرت موسیٰ کے زمانہ میں بنی اسرائیل میں قتل کا ایک واقعہ ہوا۔ قاتل کا پتہ لگانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کے واسطہ سے ان کو یہ حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اور اس کا گوشت مقتول پر مارو، مقتول اللہ کے حکم سے قاتل کا نام بتادے گا۔ یہ ایک معجزاتی تدبیر تھی جو چند مقاصد کے لیے اختیار کی گئی

۱۔ مصر میں لمبی مدت تک قیام کرنے کی وجہ سے بنی اسرائیل مصری تہذیب اور رسوم سے متاثر ہوگئے۔ مصری قوم گائے کو پوجتی تھی۔ چنانچہ مصریوں کے اثر سے بنی اسرائیل میں بھی گائے کے مقدس ہونے کا ذہن پیدا ہوگیا۔ جب مذکورہ واقعہ ہوا تو اللہ نے چاہا کہ اس واقعہ کے ذیل میں ان کے ذہن سے گائے کے تقدس کو توڑا جائے۔ چنانچہ قاتل کا پتہ لگانے کے لیے گائے کے ذبح کی تدبیر اختیار کی گئی۔

۲۔ اسی طرح بنی اسرائیل نے یہ غلطی کی تھی کہ فقہی موشگافی (hair splitting)اور بحث کے نتیجہ میں خدا کے سادہ دین کو ایک بوجھل دین بنا ڈالا تھا۔ چنانچہ مذکورہ واقعہ کے ذیل میں ان کو یہ سبق دیاگیا کہ اللہ کی طرف سے جو حکم آئے اس کو سادہ معنوں میں لے کر فوراً اس کی تعمیل میں لگ جاؤ۔ کھو دکرید کا طریقہ اختیار نہ کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا کہ حکم کی تفصیلات جاننے اور اس کے حدود متعین کرنے کے لیے موشگافیاںکرنے لگے توتم سخت آزمائش میں پڑ جاؤ گے۔ اس طرح ایک سادہ حکم شرائط کا اضافہ ہوتے ہوتے ایک سخت حکم بن جائے گا جس کی تعمیل تمھارے لیے بے حد مشکل ہو۔

۳۔ اس واقعہ کے ذریعہ انسانوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ دوسری زندگی اسی طرح ایک ممکن زندگی ہے جیسے پہلی زندگی۔ اللہ ہر آدمی کو مرنے کے بعد زندہ کردے گا اور اس کو دوبارہ ایک نئی دنیا میں اٹھائے گا۔