登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Al-Baqarah 阿雅 26

2:26
۞ ان الله لا يستحيي ان يضرب مثلا ما بعوضة فما فوقها فاما الذين امنوا فيعلمون انه الحق من ربهم واما الذين كفروا فيقولون ماذا اراد الله بهاذا مثلا يضل به كثيرا ويهدي به كثيرا وما يضل به الا الفاسقين ٢٦
۞ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَسْتَحْىِۦٓ أَن يَضْرِبَ مَثَلًۭا مَّا بَعُوضَةًۭ فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَيَقُولُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَـٰذَا مَثَلًۭا ۘ يُضِلُّ بِهِۦ كَثِيرًۭا وَيَهْدِى بِهِۦ كَثِيرًۭا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِۦٓ إِلَّا ٱلْفَـٰسِقِينَ ٢٦
۞ إِنَّﱨ ﱩ
ٱللَّهَﱪ
لَاﱫ
يَسۡتَحۡيِۦٓﱬ
أَنﱭ
يَضۡرِبَﱮ
مَثَلٗاﱯ
مَّاﱰ
بَعُوضَةٗﱱ
فَمَاﱲ
فَوۡقَهَاۚﱳﱴ
فَأَمَّاﱵ
ٱلَّذِينَﱶ
ءَامَنُواْﱷ
فَيَعۡلَمُونَﱸ
أَنَّهُﱹ
ٱلۡحَقُّﱺ
مِنﱻ
رَّبِّهِمۡۖﱼﱽ
وَأَمَّاﱾ
ٱلَّذِينَﱿ
كَفَرُواْﲀ
فَيَقُولُونَﲁ
مَاذَآﲂ
أَرَادَﲃ
ٱللَّهُﲄ
بِهَٰذَاﲅ
مَثَلٗاۘﲆﲇ
يُضِلُّﲈ
بِهِۦﲉ
كَثِيرٗاﲊ
وَيَهۡدِيﲋ
بِهِۦﲌ
كَثِيرٗاۚﲍﲎ
وَمَاﲏ
يُضِلُّﲐ
بِهِۦٓﲑ
إِلَّاﲒ
ٱلۡفَٰسِقِينَﲓ
٢٦ﲔ
真主的确不嫌以蚊子或更小的事物设任何譬喻;信道者,都知道那是从他们的主降示的真理;不信道者,却说:真主设这个譬喻的宗旨是甚麽?他以譬喻使许多人入迷途,也以譬喻使许多人上正路;但除悖逆者外,他不以譬喻使人入迷途。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
2:26至2:29节的经注

کسی بندہ کے اوپر اللہ کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ وہ عبدیت کے اس عہد کو نبھائے جو پیدا کرنے والے اور پیدا کیے جانے والے کے درمیان اول روز سے قائم ہوچکا ہے۔ پھر انسانوں کے درمیان وہ اس طرح رہے کہ وہ ان تمام رشتوں اور تعلقات کو پوری طرح استوار کیے ہوئے ہو جن کے استوار کیے جانے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ تیسری چیز یہ کہ جب خدا اپنے ایک بندے کی زبان سے اپنے پیغام کا اعلان کرائے تو اس کے خلاف بے بنیاد باتیں نکال کر خدا کے بندوں کو اس سےدور نه كيا جائے۔ حق کی دعوت دینا دراصل لوگوں کو فطری حالت پر لانے کی کوشش کرنا ہے،اس لیے جو شخص لوگوں کو اس سے روکتا ہے وہ زمین میں فساد ڈالنے کا مجرم بنتا ہے۔

اللہ کا یہ احسان کہ وہ آدمی کو عدم سے وجود میں لے آیا، اتنا بڑا احسان ہے کہ آدمی کو ہمہ تن اس کے آگے بچھ جانا چاہیے۔ پھر اللہ نے انسان کو پیداکرکے یونہی چھوڑ نہیں دیا بلکہ اس کو رہنے کے لیے ایک ایسی زمین دی جو اس کے لیے انتہائی طورپر موافق ڈھنگ سے بنائی گئی تھی۔ پھر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے، بلکہ اس سے بہت آگے کی ہے۔ انسان ہر وقت اس نازک امکان کے کنارے کھڑا ہوا ہے کہ اس کی موت آجائے اور اچانک وہ مالک کائنات کے سامنے حساب کتاب کے لیے پیش کردیا جائے۔ ان باتوں کا تقاضا ہے کہ آدمی ہمہ تن اللہ کا ہو جائے، اس کی یاد اور اس کی اطاعت میں زندگی گزارے۔ ساری عمر وہ اس کا بندہ بنا رہے۔

پیغمبرانہ دعوت کے انتہائی واضح اور مدلّل ہونے کے باوجود کیوں بہت سے لوگ اس کو قبول نہیں کر پاتے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ شوشه يا غير متعلق (irrelevant)بات نکالنے کا فتنہ ہے۔ آدمی کے اندر نصیحت پکڑنے کا ذہن نہ ہو تو وہ کسی بات کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیتاایسے آدمی کے سامنے جب بھی کوئی دلیل آتی ہے تو وہ اس کو سطحی طورپر دیکھ کر ایک شوشہ ياغير متعلق بات نکال لیتا ہے۔ اس طرح وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دعوت کوئی معقول دعوت نہیں ہے۔ اگر وہ معقول دعوت ہوتی تو کیسے ممکن تھا کہ اس میں اس قسم کی بے وزن باتیں شامل ہوں۔ مگر جو نصیحت پکڑنے والے ذہن ہیں، جو باتوں پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں، ان کو حق کے پہچاننے میں دیر نہیں لگتی، خواہ حق کو ’’مچھر‘‘ جیسی مثالوں ہی میں کیوںنہ بیان کیا گیا ہو۔