登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Luqman 阿雅 7

31:7
واذا تتلى عليه اياتنا ولى مستكبرا كان لم يسمعها كان في اذنيه وقرا فبشره بعذاب اليم ٧
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَـٰتُنَا وَلَّىٰ مُسْتَكْبِرًۭا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِىٓ أُذُنَيْهِ وَقْرًۭا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ٧
وَإِذَاﱴ
تُتۡلَىٰﱵ
عَلَيۡهِﱶ
ءَايَٰتُنَاﱷ
وَلَّىٰﱸ
مُسۡتَكۡبِرٗاﱹ
كَأَنﱺ
لَّمۡﱻ
يَسۡمَعۡهَاﱼ
كَأَنَّﱽ
فِيٓﱾ
أُذُنَيۡهِﱿ
وَقۡرٗاۖﲀﲁ
فَبَشِّرۡهُﲂ
بِعَذَابٍﲃ
أَلِيمٍﲄ
٧ﲅ
有人对他宣读我的迹象的时候,他自大地退避,仿佛没有听见一样,仿佛他的两耳重听一样。你以痛苦的刑罚,向他报喜吧。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
31:6至31:9节的经注

باتیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک نصیحت اور دوسري تفریح۔ نصیحت کی بات ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ وہ آدمی سے کچھ کرنے اور کچھ نہ کرنے کےلیے کہتی ہے۔ اس ليے ہر دور میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نصیحت کی باتوں سے دلچسپی لیں۔ انسان کا عام مزاج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ تفریح کی باتوں کو زیادہ پسند کرتا ہے۔ وہ نصیحت کی ’’کتاب‘‘ کے مقابلہ میں اس کتاب کا زیادہ خریدار بنتا ہے جس میں اس کےلیے ذہنی تفریح کا سامان ہو اور وہ اس سے کچھ کرنے کےلیے نہ کہے۔

جس شخص کا حال یہ ہو کہ وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کو اس قسم کی تفریحی باتوں میں مشغول کرنے لگے وہ زیادہ بڑا مجرم ہے۔ کیوں کہ وہ اس ذہنی بے راہ روی کا قائد بنا۔ اس نے لوگوں کے ذہن کو بے فائدہ باتوں میں مشغول کرکے انھیں اس قابل نہ رکھا کہ وہ زیادہ سنجیدہ باتوں میں دھیان دے سکیں۔

سب سے بری نفسيات گھمنڈ کی نفسیات ہے۔ جو شخص گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا ہو اس کے سامنے حق آئے گا مگر وہ اپنے کو بلند سمجھنے کی وجہ سے اس کا اعتراف نہیں کرے گا۔ وہ اس کو حقارت کے ساتھ نظر انداز کرکے آگے بڑھ جائے گا۔ اس کے برعکس معاملہ اہلِ ایمان کا ہے۔ ان کا نصیحت پسند مزاج انھیں مجبور کرتاہے کہ وہ سچائی کا اعتراف کریں، وہ اپنی زندگی کو تمام تر اس کے حوالہ کردیں۔