登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Ar-Ra'd 阿雅 19

13:19
۞ افمن يعلم انما انزل اليك من ربك الحق كمن هو اعمى انما يتذكر اولو الالباب ١٩
۞ أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ٱلْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰٓ ۚ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ ١٩
۞ أَفَمَنﱁ ﱂ
يَعۡلَمُﱃ
أَنَّمَآﱄ
أُنزِلَﱅ
إِلَيۡكَﱆ
مِنﱇ
رَّبِّكَﱈ
ٱلۡحَقُّﱉ
كَمَنۡﱊ
هُوَﱋ
أَعۡمَىٰٓۚﱌﱍ
إِنَّمَاﱎ
يَتَذَكَّرُﱏ
أُوْلُواْﱐ
ٱلۡأَلۡبَٰبِﱑ
١٩ﱒ
从你的主降示你的,正是真理,难道认识这个道理者跟盲人是一样的吗?唯有理智菩才能记住。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

انسانوں میں ہمیشہ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک انسان وہ ہے جس نے خدا کی دی ہوئی عقل سے سوچا اورحقائق کی روشنی میں ایک یقینی فیصلہ تک پہنچا۔ اس طرح بے لاگ جائزہ کے نتیجہ میں اس کا دل جس چیز پر مطمئن ہوا اس کو اس نے ارادہ اور شعور کے ساتھ اختیار کرلیا۔

دوسرے لوگ وہ ہیں جو قومی روایات اور تقلیدی خیالات کے دائرہ میں سوچتے ہوں۔ جو چیزوں کو دلائل کی نظرسے دیکھنے کے بجائے رواج کی نظر سے دیکھتے ہوں۔ اور پھر جو چیز انھیں عوام میں چلتی ہوئی دکھائی دے اسی کو حق سمجھ کر اختیار کرلیں۔

قرآن کے نزدیک پہلا شخص وہ ہے جو علم کی روشنی میں ایمان لایا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا آدمی قرآن کی نظر میں اندھا ہے۔ پہلا آدمی خود اپنی بصیرت سے حق اور باطل کو جانتا ہے۔ جب کہ دوسرے آدمی کا سرمایہ صرف سنی سنائی باتیں ہیں۔ لوگ جس کو باطل سمجھ لیں اس کو اس نے باطل سمجھ لیا، لوگ جس کو حق سمجھیں، اس کے متعلق اس نے بھی یقین کرلیا کہ وہ حق ہوگی۔

حق کی دعوت ایسے لوگوں کی تلاش کے لیے اٹھتی ہے جو اپنی عقل سے کام لے کر فیصلہ کرسکتے ہوں۔ باقی جو لوگ آنکھ رکھتے ہوئے اندھے بنے ہوئے ہوں ان کو حق کی دعوت کچھ فائدہ نہیں پہنچائے گی۔