登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Az-Zumar 阿雅 73

39:73
وسيق الذين اتقوا ربهم الى الجنة زمرا حتى اذا جاءوها وفتحت ابوابها وقال لهم خزنتها سلام عليكم طبتم فادخلوها خالدين ٧٣
وَسِيقَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ رَبَّهُمْ إِلَى ٱلْجَنَّةِ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَٰبُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَـٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَٱدْخُلُوهَا خَـٰلِدِينَ ٧٣
وَسِيقَﲣ
ٱلَّذِينَﲤ
ٱتَّقَوۡاْﲥ
رَبَّهُمۡﲦ
إِلَىﲧ
ٱلۡجَنَّةِﲨ
زُمَرًاۖﲩﲪ
حَتَّىٰٓﲫ
إِذَاﲬ
جَآءُوهَاﲭ
وَفُتِحَتۡﲮ
أَبۡوَٰبُهَاﲯ
وَقَالَﲰ
لَهُمۡﲱ
خَزَنَتُهَاﲲ
سَلَٰمٌﲳ
عَلَيۡكُمۡﲴ
طِبۡتُمۡﲵ
فَٱدۡخُلُوهَاﲶ
خَٰلِدِينَﲷ
٧٣ﲸ
敬畏主者将一队一队地被邀入乐园,迨他们来到乐园前面的时候,园门开了,管园的天神要对他们说:祝你们平安!你们已经纯洁了,所以请你们进去永居吧!
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
39:73至39:75节的经注

جنت میں جانے والے وہ لوگ ہیں جن میں تقویٰ کی صفت پائی جائے۔ جب آدمی خدا کی بڑائی کو اس طرح پائے کہ اس کے اندر سے اپنی بڑائی کا احساس ختم ہوجائے تو اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ خدا سے ڈرنے لگتاہے۔ اپنے عجز اور خدا کی قدرت کا احساس اس کو اندیشہ ناک بنا دیتاہے۔ وہ خدا کے معاملہ میں حد درجہ محتاج ہوجاتا ہے۔ اس کو ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہتاہے کہ آخرت میں اس کا خدا اس کے ساتھ کیا معاملہ فرمائے گا۔ جن لوگوں نے دنیا میں اسی طرح خوف کیا وہی آخرت کی بے خوف زندگی کے وارث قرار دئے جائیں گے۔

اہل جنت کے ساتھ آخرت میں وہ معاملہ کیا جائے گا جو دنیا میں شاہی مہمانوں کے ساتھ کیا جاتاہے۔ ان کو کمال اعزاز واکرام کے ساتھ ان کی قیام گاہوں کی طرف لے جایا جائے گا۔ جب وہ جنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو بے اختیار ان کی زبان پر حمد اور شکر کے کلمات جاری ہوجائیں گے۔ جنت میں ان کےلیے نہ صرف اعلیٰ قیام گاہیں ہوں گی بلکہ وہاں سیر اور ملاقات کےلیے آنے جانے پر کوئی روک نہ ہوگی۔ سفر اور مواصلات کی اعلیٰ ترین سہولتیں وافر مقدار میں حاصل ہوں گی۔

حمد کی مستحق صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ مگر موجودہ امتحان کی دنیا میں اس کا ظہور نہیں ہوتا۔آخرت حمد الٰہی کے کامل ظہور کا دن ہوگا۔ اس وقت تمام تر زبانیں اور سارا ماحول حمد خداوندی کے نغمہ سے معمورہوجائے گا۔ تمام جھوٹی بڑائیاں ختم ہوجائیں گی۔ وہاں صرف ایک بستی ہوگی جس کا آدمی نام لے۔ وہاں صرف ایک بڑائی ہوگی جس کی بڑائی سے سرشار ہو کر وہ اس کی حمد کرے۔