登入
登入
登入
选择语言

经注: An-Nahl 16:27

16:27
ثم يوم القيامة يخزيهم ويقول اين شركايي الذين كنتم تشاقون فيهم قال الذين اوتوا العلم ان الخزي اليوم والسوء على الكافرين ٢٧
ثُمَّ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ يُخْزِيهِمْ وَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآءِىَ ٱلَّذِينَ كُنتُمْ تُشَـٰٓقُّونَ فِيهِمْ ۚ قَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ إِنَّ ٱلْخِزْىَ ٱلْيَوْمَ وَٱلسُّوٓءَ عَلَى ٱلْكَـٰفِرِينَ ٢٧
ثُمَّ
يَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
يُخۡزِيهِمۡ
وَيَقُولُ
أَيۡنَ
شُرَكَآءِيَ
ٱلَّذِينَ
كُنتُمۡ
تُشَٰٓقُّونَ
فِيهِمۡۚ
قَالَ
ٱلَّذِينَ
أُوتُواْ
ٱلۡعِلۡمَ
إِنَّ
ٱلۡخِزۡيَ
ٱلۡيَوۡمَ
وَٱلسُّوٓءَ
عَلَى
ٱلۡكَٰفِرِينَ
٢٧
然后在复活日他要凌辱他们,并审问他们说:我那些伙伴--你们为了他们而与信士们相争论的--如今在哪里呢?有学识者将要说:凌辱和刑罚今日必归于不信道者。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
16:26至16:27节的经注
نمرود کا تذکرہ ٭٭

بعض تو کہتے ہیں اس مکار سے مراد نمرود ہے جس نے بالاخانہ تیار کیا تھا۔ سب سے پہلے سب سے بڑی سرکشی اسی نے زمین میں کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کرنے کو ایک مچھر بھیجا جو اس کے نتھنے میں گھس گیا اور چار سو سال تک اس کا بھیجا چاٹتا رہا، اس مدت میں اسے اس وقت قدرے سکون معلوم ہوتا تھا جب اس کے سر پر ہتھوڑے مارے جائیں، خوب فساد پھیلایا تھا۔

بعض کہتے ہیں اس کے سر پر ہتھوڑے پڑتے رہتے تھے۔ اس نے چار سو سال تک سلطنت بھی کی تھی اور خوب فساد پھیلایا تھا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد بخت نصر ہے یہ بھی بڑا مکار تھا لیکن اللہ کو کوئی کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟ «وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ» [14-إبراھیم:46] ‏ ” گو اس کا مکر پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے سرکا دینے والا ہو “۔

بعض کہتے ہیں یہ تو کافروں اور مشرکوں نے اللہ کے ساتھ جو غیروں کی عبادت کی ان کے عمل کی بربادی کی مثال ہے جیسے نوح علیہ السلام نے فرمایا تھا آیت «وَمَكَرُوا مَكْرًا كُبَّارًا» [71-نوح:22] ‏ ان ” کافروں نے بڑا ہی مکر کیا، ہر حیلے سے لوگوں کو گمراہ کیا، ہر وسیلے سے انہیں شرک پر آمادہ کیا “۔ چنانچہ ان کے چیلے قیامت کے دن ان سے کہیں گے «بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا» [34-سبأ:33] ‏ کہ ” تمہارا رات دن کا مکر کہ ہم سے کفر و شرک کے لیے کہنا “، الخ۔

صفحہ نمبر4431

ان کی عمارت کی جڑ اور بنیاد سے عذاب الٰہی آیا یعنی بالکل ہی کھودیا اصل سے کاٹ دیا جیسے فرمان ہے «كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّـهُ» [5-المائدہ:64] ‏ ” جب لڑائی کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے “۔

اور فرمان ہے کہ «فَأَتَاهُمُ اللَّـهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ» [59-الحشر:2] ‏ ” ان کے پاس اللہ ایسی جگہ سے آیا جہاں کا انہیں خیال بھی نہ تھا، ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ یہ اپنے ہاتھوں اپنے مکانات تباہ کرنے لگے اور دوسری جانب سے مومنوں کے ہاتھوں مٹے، عقل مندو! عبرت حاصل کرو “۔

یہاں فرمایا کہ ” اللہ کا عذاب ان کی عمارت کی بنیاد سے آگیا اور ان پر اوپر سے چھت آ پڑی اور نا دانستہ جگہ سے ان پر عذاب اتر آیا۔ قیامت کے دن کی رسوائی اور فضیحت ابھی باقی ہے “۔ «يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ» [86-الطارق:9] ‏ ” اس وقت چھپا ہوا سب کھل جائے گا، اندر کا سب باہر آ جائے گا۔ سارا معاملہ طشت ازبام ہو جائے گا “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر غدار کے لیے اس کے پاس ہی جھنڈا گاڑ دیا جائے گا جو اس کے غدر کے مطابق ہوگا اور مشہور کردیا جائے گا کہ فلاں کا یہ غدر ہے جو فلاں کا لڑکا تھا ۔ [صحیح بخاری:3186] ‏

اسی طرح ان لوگوں کو بھی میدان محشر میں سب کے سامنے رسوا کیا جائے گا۔ ان سے ان کا پروردگار ڈانٹ ڈپٹ کر دریافت فرمائے گا کہ «مِن دُونِ اللَّـهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ» [26-الشعراء:93] ‏ ” جن کی حمایت میں تم میرے بندوں سے الجھتے رہتے تھے وہ آج کہاں ہیں؟ تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے؟ آج بے یار و مددگار کیوں ہو؟ “

یہ چپ ہو جائیں گے، کیا جواب دیں؟ لاچار ہو جائیں گے، کون سی جھوٹی دلیل پیش کریں؟ اور آیت میں ہے «فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ» [86-الطارق:10] ‏ ” اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہو گا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا “۔

اس وقت علماء کرام جو دنیا اور آخرت میں اللہ کے اور مخلوق کے پاس عزت رکھتے ہیں جواب دیں گے کہ رسوائی اور عذاب آج کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں اور ان کے معبودان باطل ان سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر4432