登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: An-Naml 阿雅 46

27:46
قال يا قوم لم تستعجلون بالسيية قبل الحسنة لولا تستغفرون الله لعلكم ترحمون ٤٦
قَالَ يَـٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبْلَ ٱلْحَسَنَةِ ۖ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ٤٦
قَالَﱏ
يَٰقَوۡمِﱐ
لِمَﱑ
تَسۡتَعۡجِلُونَﱒ
بِٱلسَّيِّئَةِﱓ
قَبۡلَﱔ
ٱلۡحَسَنَةِۖﱕﱖ
لَوۡلَاﱗ
تَسۡتَغۡفِرُونَﱘ
ٱللَّهَﱙ
لَعَلَّكُمۡﱚ
تُرۡحَمُونَﱛ
٤٦ﱜ
他说我的宗族啊!你们为什么在恩惠之前要求刑罚早日实现呢你们怎么不向真主求饶,以便你们蒙主的怜悯呢?
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
27:45至27:47节的经注

حضرت صالح علیہ السلام نے توحید خالص کی دعوت شروع کی تو ان کی قوم دو طبقوں میں بٹ گئی۔ جو لوگ قوم کے بڑے تھے وہ اپنی بڑائی میں گم رہے اور حضرت صالح کے بے آمیز دین کو قبول کرنے کے ليے تیار نہ ہوئے۔ البتہ چھوٹے لوگوں میں سے کچھ افراد نکلے جنھوں نے آپ کی پکار پر لبیک کہا۔

ان دونوں گروہوں میں اختلافی بحثیں شروع ہوگئیں۔ بڑے لوگ پر فخر انداز میں کہتے کہ ہم تمھارے منکر ہیں۔ پھر ہمارے انکار کی پاداش میں جو عذاب تم لاسکتے ہو لے آؤ۔ کبھی کوئی مصیبت پڑتی تو وہ کہہ دیتے کہ صالح اور ان کے ساتھیوں کی نحوست کی وجہ سے یہ بلا ہمارے اوپر آئی ہے۔ یہ باتیں وہ حضرت صالح اور آپ کی دعوت کی تحقیر کے طورپر کہتے تھے، نہ کہ سنجیدہ خیال کے طورپر۔ ان کی اچھی حالت اور ان کی بری حالت دونوں خدا کی طرف سے تھی۔ مگر اچھی حالت سے انھوں نے جھوٹے فخر کی غذا لی اور بری حالت سے جھوٹی شکایت کی۔

ان کے درمیان حق کے داعی کا اٹھنا ان کے ليے خدا کا ایک امتحان تھا۔ وہ اس آزمائش کے میدان میں کھڑے کردئے گئے تھے کہ وہ حق کو پہچان کر اس کا ساتھ دیتے ہیں یا اس کے مقابلے میں اندھے بہرے بنے رہتے ہیں۔ مگر وہ دوسری دوسری باتوں میں الجھے رہے اور اصل معاملہ کو سمجھنے سے قاصر رہے۔