登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: An-Naml 阿雅 34

27:34
قالت ان الملوك اذا دخلوا قرية افسدوها وجعلوا اعزة اهلها اذلة وكذالك يفعلون ٣٤
قَالَتْ إِنَّ ٱلْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا۟ قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوٓا۟ أَعِزَّةَ أَهْلِهَآ أَذِلَّةًۭ ۖ وَكَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ ٣٤
قَالَتۡﳁ
إِنَّﳂ
ٱلۡمُلُوكَﳃ
إِذَاﳄ
دَخَلُواْﳅ
قَرۡيَةًﳆ
أَفۡسَدُوهَاﳇ
وَجَعَلُوٓاْﳈ
أَعِزَّةَﳉ
أَهۡلِهَآﳊ
أَذِلَّةٗۚﳋﳌ
وَكَذَٰلِكَﳍ
يَفۡعَلُونَﳎ
٣٤ﳏ
她说:国王们每攻入一个城市,必破坏其中的建设,必使其中贵族变在贱民,他们这些人,也会这样做的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
27:27至27:35节的经注

حضرت سلیمان کی قوت وسلطنت ایک خدائی عطیہ تھی۔ اسی طرح آپ نے سبا کی حکومت کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ بھی ایک خدائی معاملہ تھا۔ شاہ عبدالقادر دہلوی آیت 37 کے ذیل میں لکھتے ہیں ’’اور کسی پیغمبر نے اس طرح کی بات نہیں فرمائی۔ سلیمان کو حق تعالیٰ کی سلطنت کا زورتھا جو یہ فرمایا‘‘۔

ملکہ سبا (بلقیس) نے معاملہ کو خالص حقیقت پسندانہ انداز سے دیکھا۔ اس نے یہ رائے قائم کی کہ اگر ہم سلیمان کی طاقت سے ٹکرائیں تو زیادہ امکان یہ ہے کہ ہم ہاریں گے اور پھر ہمارے ساتھ وہی کیا جائے گا جو ہر غالب قوم مغلوب قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ہم اطاعت قبول کرلیں تو ہم تباہی سے بچ جائیں گے۔ تاہم ملکہ نے ابتدائی اندازوں کے لیے تحفے بھیجنے کا طریقہ اختیار کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ سلیمان ہماری دولت کے خواہش مند ہیں یا اس سے آگے ان کا ہم سے کوئی اصولی مطالبہ ہے۔