登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: An-Naml 阿雅 33

27:33
قالوا نحن اولو قوة واولو باس شديد والامر اليك فانظري ماذا تامرين ٣٣
قَالُوا۟ نَحْنُ أُو۟لُوا۟ قُوَّةٍۢ وَأُو۟لُوا۟ بَأْسٍۢ شَدِيدٍۢ وَٱلْأَمْرُ إِلَيْكِ فَٱنظُرِى مَاذَا تَأْمُرِينَ ٣٣
قَالُواْﲴ
نَحۡنُﲵ
أُوْلُواْﲶ
قُوَّةٖﲷ
وَأُوْلُواْﲸ
بَأۡسٖﲹ
شَدِيدٖﲺ
وَٱلۡأَمۡرُﲻ
إِلَيۡكِﲼ
فَٱنظُرِيﲽ
مَاذَاﲾ
تَأۡمُرِينَﲿ
٣٣ﳀ
他们说:我们既有武力,又有勇气。我们对你唯命是从,请你想一想,你要我们做什么。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
27:27至27:35节的经注

حضرت سلیمان کی قوت وسلطنت ایک خدائی عطیہ تھی۔ اسی طرح آپ نے سبا کی حکومت کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ بھی ایک خدائی معاملہ تھا۔ شاہ عبدالقادر دہلوی آیت 37 کے ذیل میں لکھتے ہیں ’’اور کسی پیغمبر نے اس طرح کی بات نہیں فرمائی۔ سلیمان کو حق تعالیٰ کی سلطنت کا زورتھا جو یہ فرمایا‘‘۔

ملکہ سبا (بلقیس) نے معاملہ کو خالص حقیقت پسندانہ انداز سے دیکھا۔ اس نے یہ رائے قائم کی کہ اگر ہم سلیمان کی طاقت سے ٹکرائیں تو زیادہ امکان یہ ہے کہ ہم ہاریں گے اور پھر ہمارے ساتھ وہی کیا جائے گا جو ہر غالب قوم مغلوب قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ہم اطاعت قبول کرلیں تو ہم تباہی سے بچ جائیں گے۔ تاہم ملکہ نے ابتدائی اندازوں کے لیے تحفے بھیجنے کا طریقہ اختیار کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ سلیمان ہماری دولت کے خواہش مند ہیں یا اس سے آگے ان کا ہم سے کوئی اصولی مطالبہ ہے۔