登入
登入
登入
选择语言

经注: Ar-Rum 30:9

30:9
اولم يسيروا في الارض فينظروا كيف كان عاقبة الذين من قبلهم كانوا اشد منهم قوة واثاروا الارض وعمروها اكثر مما عمروها وجاءتهم رسلهم بالبينات فما كان الله ليظلمهم ولاكن كانوا انفسهم يظلمون ٩
أَوَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةًۭ وَأَثَارُوا۟ ٱلْأَرْضَ وَعَمَرُوهَآ أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ ۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ٩
أَوَلَمۡ
يَسِيرُواْ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
فَيَنظُرُواْ
كَيۡفَ
كَانَ
عَٰقِبَةُ
ٱلَّذِينَ
مِن
قَبۡلِهِمۡۚ
كَانُوٓاْ
أَشَدَّ
مِنۡهُمۡ
قُوَّةٗ
وَأَثَارُواْ
ٱلۡأَرۡضَ
وَعَمَرُوهَآ
أَكۡثَرَ
مِمَّا
عَمَرُوهَا
وَجَآءَتۡهُمۡ
رُسُلُهُم
بِٱلۡبَيِّنَٰتِۖ
فَمَا
كَانَ
ٱللَّهُ
لِيَظۡلِمَهُمۡ
وَلَٰكِن
كَانُوٓاْ
أَنفُسَهُمۡ
يَظۡلِمُونَ
٩
难道他们没有在大地上旅行而观察前人的结局是怎样的吗?前人比他们努力更大,前人于地方的恳植和建设,胜过他们。他们族中的使者来临他们,真主不致亏枉他们,但他们亏枉了自己,
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
30:8至30:10节的经注
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭

چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ” موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو “۔

کبھی عالم علوی کو دیکھو، کبھی عالم سفلی پر نظر ڈال، کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بے کار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔ اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ ” دیکھ لو ان کے مخالفین کا کس قدر عبرتناک انجام ہوا؟ اور ان کے ماننے والوں کو کس طرح دونوں جہاں کی عزت ملی؟ تم چل پھر کر اگلے واقعات معلوم کرو کہ گزشتہ امتیں جو تم سے زیادہ زور آور تھیں تم سے زیادہ مال و زر والی تھیں تم سے کنبے قبیلے اور بیٹے پوتے والی تھیں تم تو ان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے وہ تم سے زیادہ عمر والے تھے۔ تم سے زیادہ آبادیاں انہوں نے کیں، تم سے زیادہ کھیتیاں اور باغات ان کے تھے اس کے باوجود جب ان کے پاس اس زمانے کے رسول آئے انہوں نے دلیلیں اور معجزے دکھائے اور پھر بھی اس زمانے کے ان بدنصیبوں نے ان کی نہ مانی اور اپنے خیالات میں مستغرق رہے اور سیاہ کاریوں میں مشغول رہے تو بالآخر عذاب اللہ ان پر برس پڑے “۔

اس وقت کوئی نہ تھا جو انہیں بچا سکے یا کسی عذاب کو ان پر سے ہٹا سکے۔ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے۔

صفحہ نمبر6764

یہ عذاب تو ان کے اپنے کرتوتوں کا وبال تھا۔ یہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے رب کی باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَ‌هُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ وَنَذَرُ‌هُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:110] ‏” ان کی بےایمانی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو ان کی نگاہوں کو پھیر دیا اور انہیں ان کی سرکشی میں ہی حیران چھوڑ دیا ہے “۔

اور آیت میں ہے «فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ» [61-الصف:5] ‏ ” ان کی کجی کی وجہ سے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دئیے “ اور اس آیت میں ہے کہ «فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ» [5-المائدة:49] ‏ ” اگر اب بھی منہ موڑیں تو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض گناہوں پر ان کی پکڑ کرنے کا ارادہ کرچکا ہے “۔

اس بناء پر «اَلسُّوایٰ» منصوب ہو گا «اَسَاءُ» کا مفعول ہو کر۔ اور یہ بھی قول ہے کہ «سُّوایٰ» یہاں پر اس طرح واقع ہے کہ برائی ان کا انجام ہوئی۔ اس لیے کہ وہ آیات اللہ کے جھٹلانے والے اور ان کا مذاق اڑانے والے تھے۔ تو اس معنی کی رو سے یہ لفظ منصوب ہو گا «کَان» کی خبر ہو کر۔

امام ابن جریررحمہ اللہ نے یہی توجیہہ بیان کی ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قتادۃ رحمہ اللہ سے نقل بھی کی ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ اس کے بعد آیت «ووَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ» [30- الروم:10] ‏ ہے۔

صفحہ نمبر6765