登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Al-Ma'idah 阿雅 112

5:112
اذ قال الحواريون يا عيسى ابن مريم هل يستطيع ربك ان ينزل علينا مايدة من السماء قال اتقوا الله ان كنتم مومنين ١١٢
إِذْ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ يَـٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَآئِدَةًۭ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۖ قَالَ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ١١٢
إِذۡﲧ
قَالَﲨ
ٱلۡحَوَارِيُّونَﲩ
يَٰعِيسَىﲪ
ٱبۡنَﲫ
مَرۡيَمَﲬ
هَلۡﲭ
يَسۡتَطِيعُﲮ
رَبُّكَﲯ
أَنﲰ
يُنَزِّلَﲱ
عَلَيۡنَاﲲ
مَآئِدَةٗﲳ
مِّنَﲴ
ٱلسَّمَآءِۖﲵﲶ
قَالَﲷ
ٱتَّقُواْﲸ
ٱللَّهَﲹ
إِنﲺ
كُنتُمﲻ
مُّؤۡمِنِينَﲼ
١١٢ﲽ
当时,众门徒说:麦尔彦之子尔撒啊,你的主能从天上降筵席给我们吗﹖他说:你们当敬畏真主,如果你们是信士的话。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
5:111至5:115节的经注

لوگوں کو حق کی طرف پکارنے کا کام اگر چہ داعی انجام دیتاہے مگر پکار پر لبیک کہنا ہمیشہ خدا کی توفیق سے ہوتا ہے دعوت کی صداقت کو دلائل سے جان لینے کے بعد بھی بہت سی رکاوٹیں باقی رہتی ہیں جو آدمی کو اس کی طرف بڑھنے نہیں دیتیں — داعی کا ایک عام انسان کی صورت میں دکھائی دینا، یہ اندیشہ کہ دعوت قبول کرنے کے بعد زندگی کا بنا بنایا ڈھانچہ ٹوٹ جائے گا، یہ سوال کہ اگر یہ سچائی ہے توفلاں فلاں بڑے لوگ کیا سچائی سے محروم تھے، وغیرہ۔ یہ ایک انتہائی نازک موڑ ہوتا ہے جہاں آدمی فیصلہ کے کنارے پہنچ کر بھی فیصلہ نہیں کر پاتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خدا اس کی مدد کرتا ہے۔ جس شخص کے اندر وہ کچھ خیر دیکھتا ہے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو شبہ کی سرحد پار کرادیتاہے اور اس کو یقین کے دائرہ میں داخل کردیتا ہے۔

خدا کی طرف سے ہر وقت انسان کو رزق فراہم کیا جارہا ہے۔ حتی کہ پوری زمین انسان کے لیے رزق کا دسترخوان بنی ہوئی ہے۔ مگر مومنینِ مسیح نے آسمان سے طعام اتارنے کا مطالبہ کیا تو ان کو سخت تنبيه کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام حالات میں ہم کو جو رزق ملتا ہے وہ اسباب کے پردے میں مل رہا ہے۔ جب کہ مومنینِ مسیح کا مطالبہ یہ تھا کہ اسباب کا پردہ ہٹا کر ان کا رزق انھیں دیا جائے۔ یہ چیز سنت اللہ کے خلاف ہے۔ کیوں کہ اگر اسباب کا ظاہری پردہ ہٹا دیا جائے تو امتحان کس بات کا ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ کھیت سے لہلہاتی ہوئی فصل کا پیدا ہونا یا مٹی کے اندر سے ایک شاداب درخت کا نکل کر کھڑا ہوجانا بھی اسی طرح معجزہ ہے جس طرح بادلوں میں ہو کر کسی خوان کا ہماری طرف آنا۔ مگر ان واقعات کا معجزہ ہونا ہم کو اس لیے نظر نہیں آتا کہ وہ پردہ میں ہو کر ظاہر ہورہے ہیں۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھ سکے۔ وہ ’’زمین‘‘ سے نکلنے والے رزق کو ’’آسمان‘‘ سے اترنے والے رزق کے روپ میں پالے۔ اگر کوئی شخص یہ مطالبہ کرے کہ میں دیکھ کر مانوں گا تو گویا وہ کہہ رہا ہے کہ امتحان سے گزرے بغیر میں خدا کی رحمت میں داخل ہوں گا۔ حالاں کہ خدا کی سنت کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہیں۔