登入
登入
登入
选择语言

Fi Zilal al-Quran 经注: Al-Muddaththir 阿雅 49

74:49
فما لهم عن التذكرة معرضين ٤٩
فَمَا لَهُمْ عَنِ ٱلتَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ ٤٩
فَمَاﱆ
لَهُمۡﱇ
عَنِﱈ
ٱلتَّذۡكِرَةِﱉ
مُعۡرِضِينَﱊ
٤٩ﱋ
他们怎么退避这教训呢?
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
74:49至74:51节的经注

فمالھم ............................ قسورة

جنگلی گدھے بہت ہی ڈرپوک ہوتے ہیں ، جب یہ شیر کی دھاڑ کی آواز سنتے ہیں تو یہ جدھر منہ ہوتا ہے ادھر بھاگ جاتے ہیں۔ عرب اس قسم کے مناظر سے واقف تھے۔ جب انسانوں کو ان خوفزدہ گدھوں سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ تو یہ منظر نہایت ہی مضحکہ خیزہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکرہ اور نصیحت سے ان کی نفرت اور فرار نہیں انسانوں کی بجائے گدھے بنا دیتا ہے۔ سا لئے نہیں کہ انہیں کوئی خوف درپیش ہے بلکہ اس لئے کہ ایک یاددہانی کرانے والا ان کو اپنے رب کی طرف بلارہا ہے اور انہیں یہ موقعہ فراہم کررہا ہے کہ یہ لوگ اس خوفناک انجام سے دو چار ہونے سے بچ جائیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ دست قدر کی محیر العقول عکاسی ہے جس نے اس تشبیہ کو یوں ریکارڈ کیا تاکہ قیامت تک لوگ اسے پڑھتے رہیں اور ان لوگوں کا رویہ قابل نفرت نظر آتا رہے اور لوگ ایسے روئیے سے بچتے رہیں اور جن لوگوں نے یہ رویہ اختیار کیا وہ شرمساری سے منہ چھپاتے پھریں۔

یہ تو تھی ان لوگوں کی بیرونی تصویر کہ ” وہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کے ڈر سے بھاگ پڑے ہیں “۔ لیکن ان کی داخلی نفسیاتی تصور کیا ہے اور ان کا شعوری خلجان کیا ہے۔