登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Al-An'am 阿雅 80

6:80
وحاجه قومه قال اتحاجوني في الله وقد هدان ولا اخاف ما تشركون به الا ان يشاء ربي شييا وسع ربي كل شيء علما افلا تتذكرون ٨٠
وَحَآجَّهُۥ قَوْمُهُۥ ۚ قَالَ أَتُحَـٰٓجُّوٓنِّى فِى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنِ ۚ وَلَآ أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَشَآءَ رَبِّى شَيْـًۭٔا ۗ وَسِعَ رَبِّى كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا ۗ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ ٨٠
وَحَآجَّهُۥﲢ
قَوۡمُهُۥۚﲣﲤ
قَالَﲥ
أَتُحَٰٓجُّوٓنِّيﲦ
فِيﲧ
ٱللَّهِﲨ
وَقَدۡﲩ
هَدَىٰنِۚﲪﲫ
وَلَآﲬ
أَخَافُﲭ
مَاﲮ
تُشۡرِكُونَﲯ
بِهِۦٓﲰ
إِلَّآﲱ
أَنﲲ
يَشَآءَﲳ
رَبِّيﲴ
شَيۡـٔٗاۚﲵﲶ
وَسِعَﲷ
رَبِّيﲸ
كُلَّﲹ
شَيۡءٍﲺ
عِلۡمًاۚﲻﲼ
أَفَلَاﲽ
تَتَذَكَّرُونَﲾ
٨٠ﲿ
他的宗族和他争论,他说:真主确已引导我,而你们和我争论真主吗?我对于你们用来配主的(偶像),毫无畏惧,除非我的主要我畏惧。我的主的知觉能容万物。难道你们不觉悟吗!
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
6:80至6:83节的经注

جب کسی چیز یا کسی شخصیت کو معبود کادرجہ دے دیا جائے تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ پر اسرار عظمتوں کے تصورات وابستہ ہوجاتے ہیں۔ لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس ذات کو کائناتی نقشہ میں کوئی ایسا برتر مقام حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں۔ اس کو خوش کرنے سے قسمتیں بنتی ہیں اور اس کو ناراض کرنے سے قسمتیں بگڑ جاتی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے جب اپنی قوم کے بتوں کے بارے میں کہا کہ یہ بے حقیقت ہیں، انھیں خدا کی اس دنیا میں کوئی زور حاصل نہیں تو لوگوں کو اندیشہ ہونے لگا کہ اس گستاخی کے نتیجہ میں کوئی وبال نہ آپڑے۔ وہ حضرت ابراہیم سے بحثیں کرنے لگے۔ انھوں نے آپ کو ڈرایا کہ تم ایسی باتیں نہ کرو، ورنہ ان معبودوں کا غضب تمھارے اوپر نازل ہوگا۔ تم اندھے ہوجاؤ گے، تم پاگل ہوجاؤ گے، تم برباد ہوجاؤ گے، وغیرہ۔

اس دنیا میں صرف خدا کی ایک ذات هے جس کی کبریائی دلیل وبرہان کے اوپر قائم ہے۔ اس کے سوا بڑائی اور معبودیت کی جتنی قسمیں ہیں سب توہماتی عقائد کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں۔ خدا کی خدائی اپنے آپ قائم ہے، جب کہ دوسری تمام خدائیاں صرف ان کے ماننے والوں کی بدولت ہیں۔ اگر ماننے والے نہ مانیں تو یہ خدائیاں بھی بے وجود ہوکر رہ جائیں۔

ظاہري حالات کو دیکھ كران معبودوں کے پرستار اکثر اس دھوکے میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ سچے خدا پرستوں کے مقابلہ میں زیادہ محفوظ مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بدترین غلط فہمی ہے۔ محفوظ حیثیت دراصل اس کی ہے جو دلیل او ر برہان پر کھڑاہوا ہے۔ دنیوی رواج سے مصالحت کرکے کوئی شخص اپنے لیے محفوظ دیوار حاصل کرے تو آخری انجام کے اعتبار سے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

جھوٹے معبودوں کا غلبہ کبھی اس نوبت کو پہنچتا ہے کہ سچے خدا پرست بھی اس سے مرعوب ہو کر اس سے سازگاری کرلیتے ہیں۔ دنیوی مصلحتیں اور مادی مفادات ان سے اس درجہ وابستہ ہوجاتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ باعزت زندگی حاصل کرنے کي اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ ان معبودوں کے تحت بنے ہوئے ڈھانچہ سے مصالحت کر لی جائے۔ مگر اس قسم کا رویہ اپنے ایمان میں ایسا نقصان شامل کرلینا ہے جو خود ایمان ہی کو خدا کی نظر میں مشتبہ بنا دے۔