登入
登入
登入
选择语言

Bayan ul Quran 经注: Al-An'am 阿雅 47

6:47
قل ارايتكم ان اتاكم عذاب الله بغتة او جهرة هل يهلك الا القوم الظالمون ٤٧
قُلْ أَرَءَيْتَكُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُ ٱللَّهِ بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ٤٧
قُلۡﱥ
أَرَءَيۡتَكُمۡﱦ
إِنۡﱧ
أَتَىٰكُمۡﱨ
عَذَابُﱩ
ٱللَّهِﱪ
بَغۡتَةًﱫ
أَوۡﱬ
جَهۡرَةًﱭ
هَلۡﱮ
يُهۡلَكُﱯ
إِلَّاﱰ
ٱلۡقَوۡمُﱱ
ٱلظَّٰلِمُونَﱲ
٤٧ﱳ
你说:你们告诉我吧,如果真主的刑罚忽然或显然降临你们,那末,除不义的民众外,还有谁会被毁灭呢?
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

آیت 47 قُلْ اَرَءَ یْتَکُمْ اِنْ اَتٰٹکُمْ عَذَاب اللّٰہِ بَغْتَۃً اَوْ جَہْرَۃً ہَلْ یُہْلَکُ الاَّ الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ یہ عذاب اچانک آئے یا بتدریج ‘ پیشگی اطلاع کے بغیر وارد ہوجائے یا ڈنکے کی چوٹ اعلان کر کے آئے ‘ ہلاک تو ہر صورت میں وہی لوگ ہوں گے جو رسول علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرا کر ‘ اپنی جانوں پر ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اب انبیاء و رسل علیہ السلام کی بعثت کا وہی بنیادی مقصد بیان ہو رہا ہے جو اس سے پہلے ہم سورة النساء آیت 165 میں پڑھ چکے ہیں : رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ۔۔