登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-An'am 6:30

6:30
ولو ترى اذ وقفوا على ربهم قال اليس هاذا بالحق قالوا بلى وربنا قال فذوقوا العذاب بما كنتم تكفرون ٣٠
وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ وُقِفُوا۟ عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ قَالَ أَلَيْسَ هَـٰذَا بِٱلْحَقِّ ۚ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ ٣٠
وَلَوۡ
تَرَىٰٓ
إِذۡ
وُقِفُواْ
عَلَىٰ
رَبِّهِمۡۚ
قَالَ
أَلَيۡسَ
هَٰذَا
بِٱلۡحَقِّۚ
قَالُواْ
بَلَىٰ
وَرَبِّنَاۚ
قَالَ
فَذُوقُواْ
ٱلۡعَذَابَ
بِمَا
كُنتُمۡ
تَكۡفُرُونَ
٣٠
当他们奉命站在他们的主那里的时候,假若你看见他们的情状。真主将说:难道这不是真实的吗?他们将说:不然,以我们的主发誓!他将说:你们尝试刑罚吧,因为你们从前不信它。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
6:27至6:30节的经注
کفار کا واویلا مگر سب بےسود ٭٭

کفار کا حال اور ان کا برا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ” جب یہ جہنم کو وہاں کے طرح طرح کے عذابوں وہاں کی بدترین سزاؤں طوق و زنجیر کو دیکھ لیں گے اس وقت ہائے وائے مچائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کیا اچھا ہو کہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تاکہ وہاں جا کر نیکیاں کریں اللہ کی باتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے سچے موحد بن جائیں “۔

حقیقت یہ ہے کہ جس کفر و تکذیب کو اور سختی و بے ایمانی کو یہ چھپا رہے تھے وہ ان کے سامنے کھل گئی، جیسے اس سے اوپر کی آیتوں میں گزرا کہ اپنے کفر کا تھوڑی دیر پہلے انکار تھا اب یہ تمنا گویا اس انکار کے بعد کا اقرار ہے اور اپنے جھوٹ کا خود اعتراف ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس سچائی کو دنیا میں چھپاتے رہے اسے آج کھول دیں گے۔

صفحہ نمبر2565

چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا کہ «قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنزَلَ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بَصَائِرَ» [17-الإسراء:102] ‏ ” تو بخوبی جانتا ہے کہ یہ تمام نشانیاں آسمان و زمین کے رب کی اتاری ہوئی ہیں “۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت «وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ» [17۔النمل:14] ‏ یعنی ” فرعونیوں کے دلوں میں تو کامل یقین تھا لیکن صرف اپنی بڑائی اور سنگدلی کی وجہ سے بہ بظاہر منکر تھے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد منافق ہوں جو ظاہراً مومن تھے اور دراصل کافر تھے اور یہ خبر جماعت کفار سے متعلق ہو۔

اگرچہ منافقوں کا وجود مدینے میں پیدا ہوا لیکن اس عادت کے موجود ہونے کی خبر مکی سورتوں میں بھی ہے۔ ملاحظہ ہو سورۃ العنکبوت جہاں صاف فرمان ہے «وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ» [29۔العنکبوت:11] ‏ پس یہ منافقین دار آخرت میں عذابوں کو دیکھ لیں گے اور جو کفر و نفاق چھپا رہے تھے وہ آج ان پر ظاہر ہو جائیں گے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اب ان کی تمنا ہوگی کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں یہ بھی دراصل طمع ایمانی کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ عذابوں سے چھوٹ جانے کے لیے ہو گی۔

صفحہ نمبر2566

چنانچہ عالم الغیب اللہ ﷻ فرماتا ہے کہ ” اگر یہ لوٹا دیئے جائیں جب بھی ان ہی نافرمانیوں میں پھر سے مشغول ہو جائیں گے “۔ ان کا یہ قول کہ وہ رغبت ایمان کر رہے ہیں اب بھی غلط ہے۔ نہ یہ ایمان لائیں گے نہ جھٹلانے سے باز رہیں گے بلکہ لوٹنے کے بعد بھی وہی پہلا سبق رٹنے لگیں گے کہ بس اب تو یہی دنیا ہی زندگانی ہے، دوسری زندگی اور آخرت کوئی چیز نہیں، نہ مرنے کے بعد ہم اٹھائے جائیں گے۔

پھر ایک اور حال بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ اللہ عزوجل کے سامنے کھڑے ہو نگے، اس وقت جناب باری ان سے فرمائے گا ” کہو اب تو اس کا سچا ہونا تم پر ثابت ہو گیا؟ اب تو مان گئے کہ یہ غلط اور باطل نہیں؟ “ اس وقت سرنگوں ہو کر کہیں گے کہ ہاں اللہ کی قسم یہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اب اپنے جھٹلانے اور نہ ماننے اور کفر و انکار کا خمیازہ بھگتو اور عذابوں کا مزہ چکھو “۔ «أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [52-الطور:15] ‏ ” بتاؤ جادو ہے یا تم اندھے ہو “۔

صفحہ نمبر2567