登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-An'am 6:3

6:3
وهو الله في السماوات وفي الارض يعلم سركم وجهركم ويعلم ما تكسبون ٣
وَهُوَ ٱللَّهُ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَفِى ٱلْأَرْضِ ۖ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ ٣
وَهُوَ
ٱللَّهُ
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَفِي
ٱلۡأَرۡضِ
يَعۡلَمُ
سِرَّكُمۡ
وَجَهۡرَكُمۡ
وَيَعۡلَمُ
مَا
تَكۡسِبُونَ
٣
在天上地下,唯有真主应受崇拜,他知道你们所隐讳的,和你们所表白的,也知道你们所做的善恶。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
6:1至6:3节的经注

آسمان اور زمین کا نظام اپنی ساری وسعتوں کے باوجود اتنا مربوط اور اتنا وحدانی ہے کہ وہ پکار رہا ہے کہ اس کا خالق اور منتظم ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ پھر زمین وآسمان کی یہ کائنات اپنے پھیلاؤ اور اپنی حکمت و معنویت کے اعتبار سے ناقابلِ قیاس حد تک عظیم ہے۔ سورج کے روشن کرہ کے گرد خلامیں زمین کی حد درجہ منظم گردش اور اس سے زمین کی سطح پر روشنی اور تاریکی اور دن اور رات کا پیدا ہونا انسان کے تمام قیاس وگمان سے کہیں زیادہ بڑا واقعہ ہے۔ اب جو خدا اتنے بڑے کائناتی کارخانہ کو اتنے باکمال طریقہ پر چلا رہا ہے اس کی ذات میں وہ کون سی کمی ہوسکتی ہے جس کی تلافی کے لیے وہ کسی کو اپنا شریک ٹھہرائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری دنیا اور اس کے اندر قائم شدہ حیرت ناک نظام خود ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا خدا صرف ایک ہے اور یہی نظام اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ یہ خدا اتنا عظیم الشان ہے کہ اس کو اپنی تخلیق اور انتظام میں کسی مددگار کی ضرورت نہیں۔

موجودہ دنیا کی عمر محدود ہے۔ یہاں دکھ سے خالی زندگی ممکن نہیں۔ یہاں ہر خوش گواری کے ساتھ ناخوش گواری کا پہلو لگا ہوا ہے۔ یہاں شر کو خیر سے اور خیر کو شر سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی حالت میں آدمی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آخرت کی ابدی دنیا جو ہر قسم کے حزن (فاطر، 35:34 ) سے خالی ہوگی کیسے بن جائے گی۔ اگر کسی اور مادہ سے آخرت کی دنیا بننے والی ہو تو انسان اس سے واقف نہیں اور اگر اسی دنیا کے مادہ سے وہ دوسری دنیا بننے والی ہے تو اس دنیا کے اندر اس قسم کی ایک کامل دنیا کو وجود میں لانے کی صلاحیت نہیں۔

مگر سوال کرنے والے کا خود اپنا وجود ہی اس سوال کا جواب دینے کے لیے کافی ہے۔ انسان کا جسم پورا کا پورا مٹی (زمینی اجزاء) سے بنا ہے، مگر اس کے اندر ایسی منفرد صلاحیتیں ہیں، جن میں سے کوئی صلاحیت بھی مٹی کے اندر نہیں۔ آدمی سنتا ہے، وہ بولتا ہے، وہ سوچتا ہے، وہ طرح طرح کے حیرت ناک عمل انجام دیتاہے۔ حالاں کہ وہ جس مٹی سے بنا ہے وہ اس قسم کا کوئی بھی عمل انجام نہیں دے سکتی۔ زمینی اجزاء سے حیرت انگیز طورپر ایک غیرزمینی مخلوق بن کر کھڑی ہوگئی ہے۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر روز آدمی کے سامنے آرہا ہے۔ ایسی حالت میں کیسی عجیب بات ہے کہ آدمی آخرت کے واقع ہونے پر شک کرے۔ اگر مٹی سے جیتا جاگتا انسان نکل سکتا ہے۔ اگر مٹی سے خوشبودار پھول اور ذائقہ دار پھل بر آمد ہوسکتے ہیں تو ہماری موجودہ دنیا سے ایک اور زیادہ کامل اور زیادہ معیاری دنیا کیوں ظاہر نہیں ہوسکتی۔