登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Al-An'am 阿雅 19

6:19
قل اي شيء اكبر شهادة قل الله شهيد بيني وبينكم واوحي الي هاذا القران لانذركم به ومن بلغ اينكم لتشهدون ان مع الله الهة اخرى قل لا اشهد قل انما هو الاه واحد وانني بريء مما تشركون ١٩
قُلْ أَىُّ شَىْءٍ أَكْبَرُ شَهَـٰدَةًۭ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ شَهِيدٌۢ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ ۚ وَأُوحِىَ إِلَىَّ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ ٱللَّهِ ءَالِهَةً أُخْرَىٰ ۚ قُل لَّآ أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ وَإِنَّنِى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ١٩
قُلۡﱁ
أَيُّﱂ
شَيۡءٍﱃ
أَكۡبَرُﱄ
شَهَٰدَةٗۖﱅﱆ
قُلِﱇ
ٱللَّهُۖﱈﱉ
شَهِيدُۢﱊ
بَيۡنِيﱋ
وَبَيۡنَكُمۡۚﱌﱍ
وَأُوحِيَﱎ
إِلَيَّﱏ
هَٰذَاﱐ
ٱلۡقُرۡءَانُﱑ
لِأُنذِرَكُمﱒ
بِهِۦﱓ
وَمَنۢﱔ
بَلَغَۚﱕﱖ
أَئِنَّكُمۡﱗ
لَتَشۡهَدُونَﱘ
أَنَّﱙ
مَعَﱚ
ٱللَّهِﱛ
ءَالِهَةًﱜ
أُخۡرَىٰۚﱝﱞ
قُلﱟ
لَّآﱠ
أَشۡهَدُۚﱡﱢ
قُلۡﱣ
إِنَّمَاﱤ
هُوَﱥ
إِلَٰهٞﱦ
وَٰحِدٞﱧ
وَإِنَّنِيﱨ
بَرِيٓءٞﱩ
مِّمَّاﱪ
تُشۡرِكُونَﱫ
١٩ﱬ
你说:什么事物是最大的见证?你说:真主是我与你们之间的见证。这部《古兰经》,被启示给我,以便我用它来警告你们,和它所达到的各民族。难道你们务必要作证还有别的许多主宰与真主同等吗?你说:我不这样作证。你说:真主是独一的主宰。你们用来配主的(那些偶像),我与他们确是无关系的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
6:17至6:19节的经注

ہمارے سامنے جو عظیم کائنات پھیلی ہوئی ہے اس کے مختلف اجزاء باہم اتنے زیادہ مربوط ہیں کہ یہاں کسی ایک واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے بھی پوری کائنات کی مساعدت ضروری ہے۔ اس بنا پر کوئی بھی انسان کسی واقعہ کو ظہور میں لانے پر قادر نہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی انسان کائنات کے اوپر قابو یافتہ نہیں۔ یہاں ایک چھوٹی سی چیز بھی اس وقت وقوع میں آتی ہے جب کہ بے شمار عالمی اسباب اس کی پشت پر جمع ہوگئے ہوں۔ اور خدا کے سوا کوئی نہیں جو ان اسباب پر حکمراں ہو۔ کائناتی اسباب کے درمیان آدمی صرف ایک حقیر ارادہ کا مالک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی کو کوئی سکھ ملے یا کسی کو کوئی دکھ پہنچے، دونوں ہی براہ راست خدا کی اجازت کے تحت ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی کا یہ سوچنا بھی حماقت ہے کہ وہ کسی کو آباد یا برباد کرسکتا ہے۔ اور یہ بات بھی مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے کہ خداکے سوا بھي کوئی هے جس سے آدمی ڈرے یا خدا کے سوا بھي کوئی ہے جس سے وہ اپنی امیدیں وابستہ کرے۔

دنیا میں اہل حق اور اہل باطل کے درمیان جو کش مکش جاری ہے اس میں فیصلہ کن چیز صرف خدا کی کتاب ہے۔ خدا کے سوا کسی کو حقائق کا علم نہیں، اور خدا کے سوا کسی کو کسی قسم کا زور حاصل نہیں۔اس لیے خدا ہی وہ ہستی ہے جو اس جھگڑے میںواحد ثالث ہے۔ اور خدا نے قرآن کی صورت میں یہ ثالث لوگوں کے درمیان رکھ دیا ہے اب آدمی کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ اگر وہ قرآن کی صداقت سے بے خبر ہے تو وہ تحقیق کرکے جانے کہ کیا واقعۃً وہ خدا کی کتاب ہے۔ اور جب وہ جان لے کہ وہ فی الواقع خدا کی کتاب ہے تو اس کو لازماً اس کے فیصلہ پر راضی ہوجانا چاہیے۔ جو آدمی قرآن کے فیصلہ پر راضی نہ ہو وہ یہ خطرہ مول لے رہا ہے کہ آخرت میں رسوائی اور عذاب کی قیمت پر اس کو اس کے فیصلہ پر راضی ہونا پڑے۔

قرآن اس لیے اتارا گیا ہے کہ فیصلہ کا وقت آنے سے پہلے لوگوں کو آنے والے وقت سے ہوشیار کردیا جائے۔ رسول نے یہی کام اپنے زمانہ میں کیا اور آپ کی امت کو یہی کام آپ کے بعد قیامت تک انجام دینا ہے۔ قرآن اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں لوگوں کا خدا لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ پہنچانے والے اس وقت اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہوجاتے ہیں جب کہ وہ اس کو پوری طرح لوگوں تک پہنچا دیں۔ مگر سننے والے خدا کے یہاں اس وقت سبک دوش ہوں گے جب کہ وہ اس کو مانیں اور اس کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کریں۔ داعی کی ذمہ داری ’’تبلیغ‘‘ پر ختم ہوتی ہے اور مدعو کی ذمہ داری ’’اطاعت‘‘ پر۔