登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Anfal 8:50

8:50
ولو ترى اذ يتوفى الذين كفروا الملايكة يضربون وجوههم وادبارهم وذوقوا عذاب الحريق ٥٠
وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ يَتَوَفَّى ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۙ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَـٰرَهُمْ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ ٥٠
وَلَوۡ
تَرَىٰٓ
إِذۡ
يَتَوَفَّى
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ
يَضۡرِبُونَ
وُجُوهَهُمۡ
وَأَدۡبَٰرَهُمۡ
وَذُوقُواْ
عَذَابَ
ٱلۡحَرِيقِ
٥٠
众天神将鞭挞不信道者的脸部和脊背,而使他们死去,(并且说):你们尝试烈火的刑罚吧!当时,假若你看见他们的情状,。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
8:50至8:51节的经注
کفار کے لیے سکرات موت کا وقت بڑا شدید ہے ٭٭

” کاش کہ تو اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم تو دیکھتا کے فرشتے کس بری طرح کافروں کی روح قبض کرتے ہیں وہ اس وقت ان کے چہروں اور کمروں پر مارتے ہیں اور کہتے ہیں آگ کا عذاب اپنی بداعمالیوں کے بدلے چکھو۔ “

یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ بھی بدر کے دن کا ہے کہ سامنے سے ان کافروں کے چہروں پر تلواریں پڑتی تھیں اور جب بھاگتے تھے تو پیٹھ پر وار پڑتے تھے فرشتے انکا خوب بھرتہ بنا رہے تھے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ”میں نے ابوجہل کی پیٹھ پر کانٹوں کے نشان دیکھے ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ فرشتوں کی مار کے نشان ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16220:مرسل و ضعیف] ‏

حق یہ ہے کہ یہ آیت بدر کے ساتھ مخصوص تو نہیں الفاظ عام ہیں ہر کافر کا یہی حال ہوتا ہے۔ سورۃ قتال میں بھی اس بات کا بیان ہوا ہے اور سورۃ الانعام کی «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ» [ 6-الأنعام: 93 ] ‏ میں بھی اس کا بیان مع تفسیر گذر چکا ہے۔

چونکہ یہ نافرمان لوگ تھے ان کی موت سے بدن میں چھپتی پھرتی ہیں جنہیں فرشتے جبراً گھسیٹا جاتا ہے جس طرح کسی زندہ شخص کی کھال کو اتارا جائے اسی کے ساتھ رگیں اور پٹھے بھی آ جاتے ہیں۔ [مسند احمد:287/4:حسن] ‏ فرشتے اس سے کہتے ہیں اب جلنے کا مزہ چکھو۔ یہ تمہاری دینوی بداعمالی کی سزا ہے اللہ تعالیٰ ظالم نہیں وہ تو عادل حاکم ہے۔ برکت و بلندی، غنا، پاکیزگی والا بزرگ اور تعریفوں والا ہے۔

چنانچہ صحیح مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے کہ ” میرے بندو میں نے اپنے اوپر ظلم حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی حرام کر دیا ہے پس آپس میں کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ کرے میرے غلاموں میں تو صرف تمہارے کئے ہوئے اعمال ہی کو گھیرے ہوئے ہوں بھلائی پاکر میری تعریفیں کرو اور اس کے سوا کچھ اور دیکھو تو اپنے تئیں ہی ملامت کرو۔“ [صحیح مسلم:2577] ‏

صفحہ نمبر3338