登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Anfal 8:26

8:26
واذكروا اذ انتم قليل مستضعفون في الارض تخافون ان يتخطفكم الناس فاواكم وايدكم بنصره ورزقكم من الطيبات لعلكم تشكرون ٢٦
وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌۭ مُّسْتَضْعَفُونَ فِى ٱلْأَرْضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ ٱلنَّاسُ فَـَٔاوَىٰكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِهِۦ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَـٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ٢٦
وَٱذۡكُرُوٓاْ
إِذۡ
أَنتُمۡ
قَلِيلٞ
مُّسۡتَضۡعَفُونَ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
تَخَافُونَ
أَن
يَتَخَطَّفَكُمُ
ٱلنَّاسُ
فَـَٔاوَىٰكُمۡ
وَأَيَّدَكُم
بِنَصۡرِهِۦ
وَرَزَقَكُم
مِّنَ
ٱلطَّيِّبَٰتِ
لَعَلَّكُمۡ
تَشۡكُرُونَ
٢٦
你们应当记得,当时你们在地方上是少数,是被人认为软弱可欺的,你们生怕当别人的俘虏,但他使你们安居,并以他的援助辅助你们,以佳美的食物供给你们,以便你们感谢。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
اہل ایمان پر اللہ کے احسانات ٭٭

مومنوں کو پروردگار عالم اپنے احسانات یاد دلا رہا ہے کہ ان کی گنتی اس نے بڑھا دی، ان کی کمزوری کو زور سے بدل دیا، ان کے خوف کو امن سے بدل دیا، ان کی ناتوانی کو طاقت سے بدل دیا، ان کی فقیری کو امیری سے بدل دیا، انہوں نے جیسے جیسے اللہ کے فرمان کی بجا آوری کی ویسے ویسے یہ تری پا گئے۔

مومن صحابہ رضی اللہ عنہم مکہ کے قیام کی حالت میں تعداد میں بہت تھوڑے تھے، چھپے پھرتے تھے، بیقرار رہتے تھے، ہر وقت دشمنوں کا خطرہ لگا رہتا تھا، مجوسی ان کے دشمن تھے، یہودی ان کی جان کے پیچھے، بت پرست ان کے خون کے پیاسے، نصرانی ان کی فکر میں۔ دشمنوں کی یہ حالت تھی تو ان کی اپنی یہ حالت کہ تعداد میں انگلیوں پر گن لو۔ بغیر طاقت شان شوکت مطلقاً نہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں مدینے کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیتا ہے یہ مان لیتے ہیں وہاں پہنچتے ہی اللہ ان کے قدم جما دیتا ہے وہاں مدینہ والوں کو ان کا ساتھی بلکہ پشت پناہ بنا دیتا ہے وہ ان کی مدد پر اور ساتھ دینے پر تیار ہو جاتے ہیں بدر والے دن اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں، اپنے مال پانی کی طرح راہ حق میں بہاتے ہیں اور دوسرے موقعوں پر بھی نہ اطاعت چھوڑتے ہیں نہ ساتھ نہ سخاوت۔ «وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡتُمۡ قَلِیۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ»

صفحہ نمبر3268

نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چاند کی طرح چمکنے لگتے ہیں اور سورج کی طرح دمکنے لگتے ہیں۔ قتادہ بن دعامہ سدوسی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عرب کے یہ لوگ سب سے زیادہ گرے ہوئے، سب سے زیادہ تنگ حال، سب سے زیادہ بھوکے ننگے، سب سے زیادہ گمراہ اور بےدین و مذہب تھے۔ جیتے تو ذلت کی حالت میں، مرتے تو جہنمی ہو کر، ہر ایک ان کے سر کچلتا لیکن یہ آپ میں الجھے رہتے۔

واللہ روئے زمین پر ان سے زیادہ گمراہ کوئی نہ تھا۔ اب یہ اسلام لائے اللہ کے رسول کے اطاعت گذار بنے تو ادھر سے ادھر تک شہروں بلکہ ملکوں پر ان کا قبضہ ہو گیا دنیا کی دولت ان کے قدموں پر بکھرنے لگی لوگوں کی گردنوں کے مالک اور دنیا کے بادشاہ بن گئے یاد رکھو یہ سب کچھ سچے دین اور اللہ کے رسول کی تعلیم پر عمل کے نتائج تھے پس تم اپنے پروردگار کے شکر میں لگے رہو اور اس کے بڑے بڑے احسان تم پر ہیں وہ شکر کو اور شکر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے سنو شکر گذار نعمتوں کی زیادتی میں ہی رہتے۔

صفحہ نمبر3269