登入
登入
登入
选择语言

经注: At-Tawbah 9:8

9:8
كيف وان يظهروا عليكم لا يرقبوا فيكم الا ولا ذمة يرضونكم بافواههم وتابى قلوبهم واكثرهم فاسقون ٨
كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا۟ عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا۟ فِيكُمْ إِلًّۭا وَلَا ذِمَّةًۭ ۚ يُرْضُونَكُم بِأَفْوَٰهِهِمْ وَتَأْبَىٰ قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَـٰسِقُونَ ٨
كَيۡفَ
وَإِن
يَظۡهَرُواْ
عَلَيۡكُمۡ
لَا
يَرۡقُبُواْ
فِيكُمۡ
إِلّٗا
وَلَا
ذِمَّةٗۚ
يُرۡضُونَكُم
بِأَفۡوَٰهِهِمۡ
وَتَأۡبَىٰ
قُلُوبُهُمۡ
وَأَكۡثَرُهُمۡ
فَٰسِقُونَ
٨
他们怎么会有盟约呢?如果他们战胜你们,他们对你们就不顾戚谊,不重盟约。他们用甜言蜜语使你们喜欢,他们的内心却不肯实践诺言,他们大半是违约的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
کافروں کی دشمنی ٭٭

اللہ تعالیٰ کافروں کے مکر و فریب اور ان کی دلی عداوت سے مسلمانوں کو آگاہ کرتا ہے تاکہ وہ ان کی دوستی اپنے دل میں نہ رکھیں نہ ان کے قول و قرار پر مطمئن رہیں ان کا کفر شرک انہیں وعدوں کی پابندی پر رہنے نہیں دیتا۔ یہ تو وقت کے منتظر ہیں ان کا بس چلے تو یہ تو تمہیں کچے چبا ڈالیں نہ قرابت داری کو دیکھیں نہ وعدوں کی پاسداری کریں اس سے جو ہو سکے وہ تکلیف تم پر توڑیں اور خوش ہوں۔ «آل» کے معنی قرابت داری کے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے شعر میں بھی یہی معنی کئے گئے ہیں کہ وہ اپنے غلبہ کے وقت اللہ کا بھی لحاظ نہ کریں گے نہ کسی اور کا یہی لفظ «ال» ‏ سے «إيل» بن کر جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل میں آیا یعنی اس کا معنی اللہ تعالیٰ ہے لیکن پہلا قول ہی ظاہر اور مشہور ہے اور اکثر مفسرین کا بھی یہی قول ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مراد عہد ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے مراد قسم ہے۔

صفحہ نمبر3402