登入
登入
登入
选择语言

经注: Fussilat 41:47

41:47
۞ اليه يرد علم الساعة وما تخرج من ثمرات من اكمامها وما تحمل من انثى ولا تضع الا بعلمه ويوم يناديهم اين شركايي قالوا اذناك ما منا من شهيد ٤٧
۞ إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ ٱلسَّاعَةِ ۚ وَمَا تَخْرُجُ مِن ثَمَرَٰتٍۢ مِّنْ أَكْمَامِهَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِۦ ۚ وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ أَيْنَ شُرَكَآءِى قَالُوٓا۟ ءَاذَنَّـٰكَ مَا مِنَّا مِن شَهِيدٍۢ ٤٧
۞ إِلَيۡهِ
يُرَدُّ
عِلۡمُ
ٱلسَّاعَةِۚ
وَمَا
تَخۡرُجُ
مِن
ثَمَرَٰتٖ
مِّنۡ
أَكۡمَامِهَا
وَمَا
تَحۡمِلُ
مِنۡ
أُنثَىٰ
وَلَا
تَضَعُ
إِلَّا
بِعِلۡمِهِۦۚ
وَيَوۡمَ
يُنَادِيهِمۡ
أَيۡنَ
شُرَكَآءِي
قَالُوٓاْ
ءَاذَنَّٰكَ
مَا
مِنَّا
مِن
شَهِيدٖ
٤٧
关于复活时的认识,只归于他;果实的脱萼,女性的怀孕和分娩,无一不在他的洞鉴中。在那日,他将问他们:你们妄称为我人伙伴的,在哪里呢?他们将说:我们报告你,我们中绝没有一个人能作证这件事。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
41:47至41:48节的经注
علم الٰہی کی وسعتیں ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ” قیامت کب آئے گی؟ اس کا علم اس کے سوا اور کسی کو نہیں “۔ تمام انسانوں کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب فرشتوں کے سرداروں میں سے ایک سردار یعنی جبرائیل علیہ السلام نے قیامت کے آنے کا وقت پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے پوچھا جاتا ہے وہ بھی پوچھنے والے سے زیادہ جاننے والا نہیں ۔ [صحیح بخاری:50] ‏

قرآن کریم کی ایک آیت میں ہے «اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا» [79-النازعات:44] ‏ یعنی ” قیامت کب ہو گی؟ اس کے علم کا مدار تیرے رب کی طرف ہی ہے “۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اور جگہ فرمایا آیت «لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ۂ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [7-الاعراف:187] ‏ مطلب یہی ہے کہ ” قیامت کے وقت کو اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ہر چیز کو اس اللہ کا علم گھیرے ہوئے ہے یہاں تک کہ جو پھل شگوفہ سے کھل کر نکلے “، «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ» [13-الرعد:8] ‏ ” جس عورت کو حمل رہے جو بچہ اسے ہو یہ سب اس کے علم میں ہے۔ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس کے وسیع علم سے باہر نہیں “۔

جیسے فرمایا آیت «لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْـقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرُ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [34-سبأ:3] ‏ ایک اور آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ‏ [6-الانعام:59] ‏ یعنی ” جو پتہ جھڑتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے “۔ «وَاللَّـهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ» [35-فاطر:11] ‏ ” ہر مادہ کو جو حمل رہتا ہے اور رحم جو کچھ گھٹاتے بڑھاتے رہتے ہیں اللہ خوب جانتا ہے اس کے پاس ہر چیز کا اندازہ ہے۔ جس قدر عمریں گھٹتی بڑھتی ہیں وہ بھی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ایسا کوئی کام نہیں جو اللہ پر مشکل ہو “۔

قیامت والے دن مشرکوں سے تمام مخلوق کے سامنے اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ ” جنہیں تم میرے ساتھ پرستش میں شریک کرتے تھے وہ آج کہاں ہیں؟“ وہ جواب دیں گے کہ تو ہمارے بارے میں علم رکھتا ہے۔ آج تو ہم میں سے کوئی بھی اس کا اقرار نہ کرے گا کہ تیرا کوئی شریک بھی ہے، قیامت والے ان کے معبودان باطل سب گم ہو جائیں گے کوئی نظر نہ آئے گا جو انہیں نفع پہنچا سکے۔ اور یہ خود جان لیں گے کہ آج اللہ کے عذاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں یہاں ظن یقین کے معنی میں ہے۔

قرآن کریم کی اور آیت میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے آیت «وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا» ‏ [18-الكهف:53] ‏ یعنی ” گنہگار لوگ جہنم دیکھ لیں گے۔ اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے “۔

صفحہ نمبر8099