登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Taha 阿雅 89

20:89
افلا يرون الا يرجع اليهم قولا ولا يملك لهم ضرا ولا نفعا ٨٩
أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًۭا وَلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّۭا وَلَا نَفْعًۭا ٨٩
أَفَلَاﱎ
يَرَوۡنَﱏ
أَلَّاﱐ
يَرۡجِعُﱑ
إِلَيۡهِمۡﱒ
قَوۡلٗاﱓ
وَلَاﱔ
يَمۡلِكُﱕ
لَهُمۡﱖ
ضَرّٗاﱗ
وَلَاﱘ
نَفۡعٗاﱙ
٨٩ﱚ
那头牛犊不能回答他们的问话,也不能主持他们的祸福,难道他们不知道吗?
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
20:86至20:89节的经注

بنی اسرائیل کی عورتیں غالباً قدیم رواج کے مطابق بھاری زیورات اپنے جسم پر لادے ہوئی تھیں۔ اس سفر میں قوم نے کہیں پڑاؤ ڈالا تو انھوںنے ان زیورات کو اتار کر ایک جگہ ڈھیر کردیا۔ ان کے درمیان ایک سامری تھا جو مصر کی قدیم صنعت بت سازی کا تجربہ رکھتا تھا۔ اس نے ان زیورات کو پگھلایا اور ان سے بچھڑے جیسی ایک مورت بنا ڈالی۔ یہ بچھڑا اندرسے خالی تھا۔ اور اس طرح ہنر مندی سے بنایا گیا تھا کہ جب اس کے اندر سے ہوا گزرتی تو بیل کی ڈکار کی سی آواز آتی۔ سامری نے بنی اسرائیل کے جاہل عوام سے کہا کہ دیکھو تمهارا معبود تو یہ ہے جو یہاں موجود ہے۔ موسیٰ معبود کی تلاش میں معلوم نہیں کس پہاڑ پر چلے گئے۔

ہر زمانے کے ’’سامری‘‘ اسی طرح عوام کو بے وقوف بناتے ہیں۔ وہ کسی محسوس چیز کو نشانہ بنا کر اسی کو سب سے بڑا حق ثابت کرتے ہیں۔ اور الفاظ کے فریب میں آکر عوام کی ایک بھیڑ ان کے گرد جمع ہوجاتی ہے — محسوس پرستی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ خواہ وہ دور قدیم کا انسان ہو یا دور جدید کا انسان۔