登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Taha 阿雅 69

20:69
والق ما في يمينك تلقف ما صنعوا انما صنعوا كيد ساحر ولا يفلح الساحر حيث اتى ٦٩
وَأَلْقِ مَا فِى يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوٓا۟ ۖ إِنَّمَا صَنَعُوا۟ كَيْدُ سَـٰحِرٍۢ ۖ وَلَا يُفْلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ ٦٩
وَأَلۡقِﱨ
مَاﱩ
فِيﱪ
يَمِينِكَﱫ
تَلۡقَفۡﱬ
مَاﱭ
صَنَعُوٓاْۖﱮﱯ
إِنَّمَاﱰ
صَنَعُواْﱱ
كَيۡدُﱲ
سَٰحِرٖۖﱳﱴ
وَلَاﱵ
يُفۡلِحُﱶ
ٱلسَّاحِرُﱷ
حَيۡثُﱸ
أَتَىٰﱹ
٦٩ﱺ
你抛下你右手里的拐杖,它就会吞没了他们所造作的。他们所造作的,只是术士的法术;术士们无论干什么总是不成功的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
20:65至20:70节的经注

مقابلہ اس طرح شروع ہوا کہ جادوگروں نے پہلے اپنی رسّیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکیں تو ان کی رسّیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی دکھائی دينے لگيں۔ تاہم یہ صرف نظر بندی کا معاملہ تھا۔ یعنی رسّیاں اور لاٹھیاں فی الواقع سانپ نہیں بن گئیں تھیں بلکہ جادو گروں نے نظر بندی کے عمل سے حاضرین کی قوت خیالی کو اس طرح متاثر کیا کہ انھیں وقتی طورپر دکھائی دیا کہ رسّیاں اور لاٹھیاں سانپ کی مانند میدان میں چل رہیں ہیں۔

اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ نے اپنی لاٹھی میدان میں پھینکی۔ ان کی لاٹھی فوراً بہت بڑا سانپ بن کر میدان میں دوڑنے لگی۔اس نے جادو گروں کے نظر بندی کے طلسم کو نگل لیا۔ وہ چیزیں جو سانپوں کی شکل میں چلتی ہوئی نظر آتی تھیں، وہ اس کے چھوتے ہی محض رسّی اور لاٹھی ہو کر رہ گئیں۔

جادو گر حضرت موسیٰ کا کلام سن کر پہلے ہی اس سے متاثر ہوچکے تھے۔ اب جب عملی مظاہرہ ہوا تو انھوںنے حضرت موسیٰ کی صداقت کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ انھوں نے یقین کے ساتھ جان لیا کہ موسیٰ کے پاس جو چیز ہے وہ کوئی انسانی جادو نہیں ہے بلکہ وہ خدائی معجزہ ہے۔ یہ یقین اتنا گہرا تھا کہ انھوںنے اسی وقت حضرت موسیٰ کے دین کو اختیار کرنے کا اعلان کردیا۔