登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Taha 阿雅 39

20:39
ان اقذفيه في التابوت فاقذفيه في اليم فليلقه اليم بالساحل ياخذه عدو لي وعدو له والقيت عليك محبة مني ولتصنع على عيني ٣٩
أَنِ ٱقْذِفِيهِ فِى ٱلتَّابُوتِ فَٱقْذِفِيهِ فِى ٱلْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ ٱلْيَمُّ بِٱلسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّۭ لِّى وَعَدُوٌّۭ لَّهُۥ ۚ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةًۭ مِّنِّى وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِىٓ ٣٩
أَنِﱈ
ٱقۡذِفِيهِﱉ
فِيﱊ
ٱلتَّابُوتِﱋ
فَٱقۡذِفِيهِﱌ
فِيﱍ
ٱلۡيَمِّﱎ
فَلۡيُلۡقِهِﱏ
ٱلۡيَمُّﱐ
بِٱلسَّاحِلِﱑ
يَأۡخُذۡهُﱒ
عَدُوّٞﱓ
لِّيﱔ
وَعَدُوّٞﱕ
لَّهُۥۚﱖﱗ
وَأَلۡقَيۡتُﱘ
عَلَيۡكَﱙ
مَحَبَّةٗﱚ
مِّنِّيﱛ
وَلِتُصۡنَعَﱜ
عَلَىٰﱝ
عَيۡنِيٓﱞ
٣٩ﱟ
说:你把他放在一个箱子里,然后把那个箱子放在河里, 河水要把它漂到岸边,而我的一个敌人--也是他的敌人--将收养他。 我把从我发出的慈爱赏赐你,以便你在我的监护之下受抚育。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
20:37至20:40节的经注

مصر کے اصل باشندے قبطی تھےجن کا سیاسی اور مذہبی نمائندہ فرعون تھا۔ وہاں کی دوسری قوم بنی اسرائیل تھی جو حضرت یوسف کے زمانے میں باہر سے آکر یہاں آباد ہوئی تھی۔ حضرت موسیٰ جس زمانہ میں بنی اسرائیل کے ایک گھر میں پیدا ہوئے۔ اس زمانہ میں فرعون نے اسرائیل کی نسل ختم کرنے کے لیے یہ حکم دے دیا تھا کہ اسرائیل کے گھروں میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کردیے جائیں۔ حضرت موسیٰ کی ماں نے بچہ کو قتل سے بچانے کے لیے خدائی الہام کے تحت یہ کیا کہ اس کو ٹوکری میں رکھ کر دریائے نیل میں ڈال دیا۔

یہ ٹوکری بہتے ہوئے فرعون کے محل کے پاس پہنچی۔ وہاں فرعون اور اس کی بیوی نے اس کو دیکھا تو ان کو چھوٹے بچہ پررحم آگیا۔ انھوں نے اس کو نکال کر محل کے اندر رکھ لیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کی بہن کی نشان دہی پر آپ کی ماں آپ کو دودھ پلانے کے لیے مقرر ہوئیں۔یہ خدا کا ایک کرشمہ ہے کہ جس فرعون کو موسیٰ کا سب سے بڑا دشمن بننا تھا اسی فرعون کے ذریعہ حضرت موسیٰ کی پرورش اور تربیت کرائی گئی۔

حضرت موسیٰ بڑے ہوئے تو ایک قبطی اور ایک اسرائیلی کے جھگڑے میں انھوں نے قبطی کو تنبيہہ کی۔ غیرمتوقع طورپر وہ قبطی مر گیا۔ اس کے بعد حکومت کی طرف سے حکم جاری ہوا کہ موسیٰ کو گرفتار کرلیاجائے۔ مگر حضرت موسیٰ خفیہ طور پر مصر سے نکل کر مدین پہنچ گئے۔ وہاں کے صحرائی ماحول میں وہ زندگی کے مزید تجربات سے آشنا ہوئے۔ قبطی کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے غیر معمولی دعائیں کیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس حادثہ کو ان کے لیے مزید تربیت اور تعلیم کا ذریعہ بنا دیا۔