登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Taha 阿雅 24

20:24
اذهب الى فرعون انه طغى ٢٤
ٱذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ ٢٤
ٱذۡهَبۡﲠ
إِلَىٰﲡ
فِرۡعَوۡنَﲢ
إِنَّهُۥﲣ
طَغَىٰﲤ
٢٤ﲥ
你去见法老,他确是暴虐无道的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
20:22至20:24节的经注

پچھلے نبیوں کے واقعات بائبل میں بھی ہیں اور قرآن میں بھی۔ مگر بہت سے مقامات پر قرآن اور بائبل میں بہت بامعنیٰ فرق ہے۔ مثلاً یہاں بائبل میں ہے — موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر اسے ڈھانک لیا اور جب اس نے اسے نکال کر دیکھا تو اس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا (خروج، 4:7 )

بائبل حضرت موسیٰ کے ہاتھ کی سفیدی کو ’’کوڑھ‘‘ بتارہی ہے۔ ایسی حالت میں قرآن میں یدِ بیضاء (چمكتا هاتھ) کے معجزہ کو بیان کرتے ہوئے ’’掀 䊀 삂 ‘‘ کا اضافہ واضح طورپر بتارہا ہے کہ قرآن بائبل سے ماخوذ نہیں۔ بلکہ یہ خدائے عالم الغیب کی طرف سے ہے جو بائبل کی تحریفات کی تصحیح کررہاہے۔

حضرت موسیٰ کو دو خاص معجزے دئے گئے۔ سانپ کا معجزہ آپ کے لیے گویا طاقت کی علامت تھا۔ اور یدِ بیضاء کا معجزہ اس بات کی علامت کہ آپ ایک روشن صداقت پر قائم ہیں۔

فرعون کا حد سے گزرجانا یہ تھا کہ اس کو اقتدار ملا تو اس نے اپنے کو خدا سمجھ لیا۔ فرعون کے لفظی معنی ہیں سورج کی اولاد۔ قدیم مصری سورج کو سب سے بڑا دیوتا (رب اعلیٰ) سمجھتے تھے۔ چنانچہ فرعون نے اپنے کو سورج دیوتا کا زمینی مظہر بتایا۔ اس نے اپنے اسٹیچو اور بت بنوا کر مصر کے تمام شہروں میں رکھوا دئے جو باقاعدہ پوجے جاتے تھے۔

اقتدار خدا کی ایک نعمت ہے۔ اس نعمت کو پاکر آدمی کے اندر شکر کا جذبہ ابھرنا چاہیے۔ مگر سرکش انسان اقتدار کو پاکر خود اپنے آپ کو خدا سمجھ لیتا ہے۔