登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Taha 阿雅 132

20:132
وامر اهلك بالصلاة واصطبر عليها لا نسالك رزقا نحن نرزقك والعاقبة للتقوى ١٣٢
وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْـَٔلُكَ رِزْقًۭا ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَٱلْعَـٰقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ ١٣٢
وَأۡمُرۡﲠ
أَهۡلَكَﲡ
بِٱلصَّلَوٰةِﲢ
وَٱصۡطَبِرۡﲣ
عَلَيۡهَاۖﲤﲥ
لَاﲦ
نَسۡـَٔلُكَﲧ
رِزۡقٗاۖﲨﲩ
نَّحۡنُﲪ
نَرۡزُقُكَۗﲫﲬ
وَٱلۡعَٰقِبَةُﲭ
لِلتَّقۡوَىٰﲮ
١٣٢ﲯ
你应当命令你的信徒们礼拜,你对于拜功,也应当有恒, 我不以给养责成你,我供给你。善果只归于敬畏者。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
20:131至20:132节的经注

ان آیات کا خطاب اگر چہ بظاہر پیغمبر سے ہے مگر اس کے مخاطب تمام اہلِ ایمان ہیں۔ دنیا میں ایک شخص ایمان اور دعوت کی زندگی اختیار کرتاہے۔ اس کے نتیجے میں اس کی زندگی مشقتوں کی زندگی بن جاتی ہے۔ دوسری طرف یہ حال ہے کہ جو لوگ اس قسم کی ذمہ داریوں سے آزاد ہیں وہ آرام اور راحت میں اپنے صبح وشام گزاررہے ہیں۔ اس صورت حال کو نمایاں کرکے شیطان آدمی کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ وہ مومن اور داعی کو متزلزل کرنے کی کوشش کرتاہے۔

لیکن گہرائی سے دیکھا جائے تو اس ظاہری فرق کے آگے ایک اور فرق ہے اور وہ فرق زیادہ قابل لحاظ ہے۔وہ فرق یہ کہ دنیا پرست لوگوں کو جو چیز ملی ہے وہ محض امتحان کے لیے ہے اور سراسر وقتی ہے۔ اس کے بعد ابدی زندگی میں ان کے لیے کچھ نہیں۔ دوسری طرف مومن اور داعی کو خدا سے وابستگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں جو چیز ملی ہے وہ تمام دنیا کی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ وہ ہے — اللہ کی یاد، آخرت کی فکر، عبادت اور تقویٰ کی زندگی، خدا کے بندوں کو آخرت کی پکڑ سے بچانے کے لیے فکر مند ہونا۔ یہ بھی رزق ہے۔ اور یہ زیادہ اعلیٰ رزق ہے کیوں کہ وہ آخرت میںایسی بے حساب نعمتوں کی شکل میں آدمی کی طرف لوٹے گا جوکبھی ختم ہونے والی نہیں۔