登入
登入
登入
选择语言

Bayan ul Quran 经注: Taha 阿雅 115

20:115
ولقد عهدنا الى ادم من قبل فنسي ولم نجد له عزما ١١٥
وَلَقَدْ عَهِدْنَآ إِلَىٰٓ ءَادَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِىَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُۥ عَزْمًۭا ١١٥
وَلَقَدۡﱕ
عَهِدۡنَآﱖ
إِلَىٰٓﱗ
ءَادَمَﱘ
مِنﱙ
قَبۡلُﱚ
فَنَسِيَﱛ
وَلَمۡﱜ
نَجِدۡﱝ
لَهُۥﱞ
عَزۡمٗاﱟ
١١٥ﱠ
以前,我确已嘱咐阿丹,而他忘记我的嘱咐,我未发现他有任何决心。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

آیت 115 وَلَقَدْ عَہِدْنَآ اِلآی اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ ”یعنی مخصوص درخت کے پاس نہ جانے کا عہد ‘ جس کا ذکر قرآن میں متعدد بار ہوا ہے۔فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا ”آیت زیر نظر میں ”عزم“ کے دو ترجمے کیے گئے ہیں اور دونوں صحیح ہیں۔ ایک ارادے کی پختگی۔ اس لحاظ سے وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے آدم علیہ السلام کے اندر ارادے کی پختگی ‘ ہمت اور عزیمت نہیں پائی۔ وہ اللہ سے کیے گئے اپنے عہد کو نبھا نہ سکے اور اس اعتبار سے انہوں نے کمزوری کا مظاہرہ کیا۔ یہ دراصل انسانی خلقت کے اندر موجود اس کمزوری کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورة النساء میں اس طرح آیا ہے : وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا کہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔اس کا دوسرا ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ ہم نے اس کے اندر سرکشی کا ارادہ نہیں پایا۔ یعنی آدم علیہ السلام نے جان بوجھ کر اس عہد کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔ ہم نے ان علیہ السلام کی نیت میں سرکشی ‘ بغاوت اور نافرمانی کا کوئی ارادہ نہیں دیکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بھول گئے تھے ‘ ان پر نسیان طاری ہوگیا تھا ‘ جس کی وجہ سے انہیں وقتی طور پر اللہ کا وہ عہد یاد نہیں رہا تھا۔ نسیان دراصل انسان کی ایک فطری کمزوری ہے اور اسی حوالے سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ عظیم دعا سکھائی ہے : رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا ج البقرۃ : 286 کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمارا مواخذہ نہ کرنا اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے خطا ہوجائے۔