登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Hud 阿雅 116

11:116
فلولا كان من القرون من قبلكم اولو بقية ينهون عن الفساد في الارض الا قليلا ممن انجينا منهم واتبع الذين ظلموا ما اترفوا فيه وكانوا مجرمين ١١٦
فَلَوْلَا كَانَ مِنَ ٱلْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُو۟لُوا۟ بَقِيَّةٍۢ يَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْفَسَادِ فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ ۗ وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَآ أُتْرِفُوا۟ فِيهِ وَكَانُوا۟ مُجْرِمِينَ ١١٦
فَلَوۡلَاﲲ
كَانَﲳ
مِنَﲴ
ٱلۡقُرُونِﲵ
مِنﲶ
قَبۡلِكُمۡﲷ
أُوْلُواْﲸ
بَقِيَّةٖﲹ
يَنۡهَوۡنَﲺ
عَنِﲻ
ٱلۡفَسَادِﲼ
فِيﲽ
ٱلۡأَرۡضِﲾ
إِلَّاﲿ
قَلِيلٗاﳀ
مِّمَّنۡﳁ
أَنجَيۡنَاﳂ
مِنۡهُمۡۗﳃﳄ
وَٱتَّبَعَﳅ
ٱلَّذِينَﳆ
ظَلَمُواْﳇ
مَآﳈ
أُتۡرِفُواْﳉ
فِيهِﳊ
وَكَانُواْﳋ
مُجۡرِمِينَﳌ
١١٦ﳍ
在你们之前逝去的各世代中,有德者为何不禁止众人在地方上作恶?但他们中我所拯救的少数人除外。不义的人们追随他们所享受的豪华生活。他们是犯罪的人。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
11:116至11:117节的经注

یہاں پچھلوں سے مراد پچھلی امتیں بالفاظ دیگر پچھلی مسلم قومیں ہیں۔ قوم کا بگاڑ ہمیشہ اس طرح ہوتاہے کہ دنیوی سامان جو خدا کی طرف سے انھیں اس لیے دیا گیا تھاکہ اس سے ان کے اندر شکر کا جذبہ ابھر ے، وہ ان کے لیے سرمستی اور دنیا پرستی پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا۔

ایسی حالت میں مسلم قوم کی اصلاح کے لیے جو کام کرنا ہے اس کا عنوان شریعت کی اصطلاح میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ یہ حکم ایک مسلمان کی اس ذمہ داری کو بتاتا ہے جو اپنے قریبی ماحول کی اصلاح کے سلسلہ میں اس پر عائد ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں ہمیشہ ایسے افراد موجود رہنے چاہیے جو مسلمانوں کو خدا اور آخرت کی یاد دلائیں۔ وہ ان کے اخلاق کی نگرانی کریں۔ وہ معاملات میں ان کو راہِ راست پر قائم رکھنے کی کوشش کریں۔

کسی قوم میںایسے اہل ِ خیر کا نہ نکلنا ہمیشہ دو سبب سے ہوتاہے۔ یا تو پوری قوم کی قوم بگڑ چکی ہو اور اس میں کوئی صالح انسان باقی نہ رہا ہو یا صالح افراد موجود تو ہوں مگر عمومی بگاڑ کی وجہ سے وہ زبان کھولنے کی ہمت نہ کرتے ہوں۔ انھیں اندیشہ ہو کہ اگر انھوں نے سچی بات کہی تو قوم کے درمیان وہ بے عزت ہو کر رہ جائیںگے۔

مذکورہ دونوں صورتوں میں قوم خدا کی نظر میں اپنا اعتبار کھو دیتی ہے اور اس کی مستحق ہوجاتی ہے کہ ایک یا دوسری صورت میں وہ عتابِ خداوندی کی زد میں آجائے۔