登入
登入
登入
选择语言

经注: As-Sajdah 32:3

32:3
ام يقولون افتراه بل هو الحق من ربك لتنذر قوما ما اتاهم من نذير من قبلك لعلهم يهتدون ٣
أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۚ بَلْ هُوَ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْمًۭا مَّآ أَتَىٰهُم مِّن نَّذِيرٍۢ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ ٣
أَمۡ
يَقُولُونَ
ٱفۡتَرَىٰهُۚ
بَلۡ
هُوَ
ٱلۡحَقُّ
مِن
رَّبِّكَ
لِتُنذِرَ
قَوۡمٗا
مَّآ
أَتَىٰهُم
مِّن
نَّذِيرٖ
مِّن
قَبۡلِكَ
لَعَلَّهُمۡ
يَهۡتَدُونَ
٣
他们说:他捏造它吗?不然!它是从你的主降示的真理,以便你警告在你之前没有任何警告者来临过的一群民众,以便他们遵循正道。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
32:1至32:3节的经注
تفسیر سورۃ السجدۃ:

امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب الجمعہ میں حدیث وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کی صبح کی نماز میں «الم تنزيل‏» اور «ہل أتى على الإنسان‏» الخ پڑھا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری:891)

مسند احمد میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے سورہ «الم تنزيل السجدة» اور سورہ «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ لیا کرتے تھے۔ (سنن ترمذي:3404،قال الشيخ الألباني:صحیح)

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ٭٭

سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات ہیں ان کی پوری بحث ہم سورۃ البقرہ کے شروع میں کر چکے ہیں، یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کتاب قرآن حکیم بیشک وشبہ اللہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین کا یہ قول غلط ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے گھڑلیا ہے۔

نہیں یہ تو یقیناً اللہ کی طرف سے ہے اس لیے اترا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قوم کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کردیں جن کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی اور پیغمبر نہیں آیا، تاکہ وہ حق کی اتباع کر کے نجات حاصل کرلیں۔

صفحہ نمبر6898