登入
登入
登入
选择语言

经注: Ash-Shuraa 42:47

42:47
استجيبوا لربكم من قبل ان ياتي يوم لا مرد له من الله ما لكم من ملجا يوميذ وما لكم من نكير ٤٧
ٱسْتَجِيبُوا۟ لِرَبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌۭ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ ۚ مَا لَكُم مِّن مَّلْجَإٍۢ يَوْمَئِذٍۢ وَمَا لَكُم مِّن نَّكِيرٍۢ ٤٧
ٱسۡتَجِيبُواْ
لِرَبِّكُم
مِّن
قَبۡلِ
أَن
يَأۡتِيَ
يَوۡمٞ
لَّا
مَرَدَّ
لَهُۥ
مِنَ
ٱللَّهِۚ
مَا
لَكُم
مِّن
مَّلۡجَإٖ
يَوۡمَئِذٖ
وَمَا
لَكُم
مِّن
نَّكِيرٖ
٤٧
在不可抗拒之日,从真主降临以前,你们应当应答你们的主。在那日,你们绝没有逃避的地方,也绝不能抵赖。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
42:47至42:48节的经注
آسانی میں شکر تنگی میں صبر مومنوں کی صفت ہے ٭٭

چونکہ اوپر یہ ذکر تھا کہ قیامت کے دن بڑے ہیبت ناک واقعات ہوں گے وہ سخت مصیبت کا دن ہو گا تو اب یہاں اس سے ڈرا رہا ہے اور اس دن کے لیے تیار رہنے کو فرماتا ہے کہ اس اچانک آجانے والے دن سے پہلے ہی پہلے اللہ کے فرمان پر پوری طرح عمل کر لو «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ كَلَّا لَا وَزَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» ‏ [ 75-القيامة: 10 - 12 ] ‏ جب وہ دن آ جائے تو تمہیں نہ تو کوئی جائے پناہ ملے گی نہ ایسی جگہ کہ وہاں انجان بن کر ایسے چھپ جاؤ کہ پہچانے نہ جاؤ اور نہ نظر پڑے۔

پھر فرماتا ہے کہ «‏لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» [ 2-البقرة: 272 ] ‏ اگر یہ مشرک نہ مانیں تو آپ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے انہیں ہدایت پر لاکھڑا کر دینا آپ کے ذمے نہیں یہ کام اللہ کا ہے۔ «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ‏ [ 13-الرعد: 40 ] ‏ آپ پر صرف تبلیغ ہے حساب ہم خود لے لیں گے انسان کی حالت یہ ہے کہ راحت میں بدمست بن جاتا ہے اور تکلیف میں ناشکرا پن کرتا ہے اس وقت اگلی نعمتوں کا بھی منکر بن جاتا ہے۔

حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا صدقہ کرو میں نے تمہیں زیادہ تعداد میں جہنم میں دیکھا ہے کسی عورت نے پوچھا یہ کس وجہ سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری شکایت کی زیادتی اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کی وجہ سے اگر تو ان میں سے کوئی تمہارے ساتھ ایک زمانے تک احسان کرتا رہے پھر ایک دن چھوڑ دے تو تم کہہ دو گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی کوئی راحت پائی ہی نہیں۔ [صحیح بخاری:304] ‏

فی الواقع اکثر عورتوں کا یہی حال ہے لیکن جس پر اللہ رحم کرے اور نیکی کی توفیق دیدے۔ اور حقیقی ایمان نصیب فرمائے پھر تو اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ ہر راحت پہ شکر ہر رنج پر صبر پس ہر حال میں نیکی حاصل ہوتی ہے اور یہ وصف بجز مومن کے کسی اور میں نہیں ہوتا۔ [صحیح مسلم:233] ‏

صفحہ نمبر8189