登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Furqan 25:45

25:45
الم تر الى ربك كيف مد الظل ولو شاء لجعله ساكنا ثم جعلنا الشمس عليه دليلا ٤٥
أَلَمْ تَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ ٱلظِّلَّ وَلَوْ شَآءَ لَجَعَلَهُۥ سَاكِنًۭا ثُمَّ جَعَلْنَا ٱلشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلًۭا ٤٥
أَلَمۡ
تَرَ
إِلَىٰ
رَبِّكَ
كَيۡفَ
مَدَّ
ٱلظِّلَّ
وَلَوۡ
شَآءَ
لَجَعَلَهُۥ
سَاكِنٗا
ثُمَّ
جَعَلۡنَا
ٱلشَّمۡسَ
عَلَيۡهِ
دَلِيلٗا
٤٥
难道你没有看见你的主怎样伸展阴影吗?假若他意欲,他必定使阴影成为静止的。我以太阳为其标志,
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
25:45至25:47节的经注
اگر وہ چاہے تو رات دن نہ بدلے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت پر دلیلیں بیان ہو رہی ہے کہ مختلف اور متضاد چیزوں کو وہ پیدا کر رہا ہے۔ سائے کو وہ بڑھاتا ہے، کہتے ہیں کہ یہ وقت صبح صادق سے لے کر سورج نکلنے تک کا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اسے ایک ہی حالت پر رکھ دیتا۔

جیسے فرمان ہے کہ اگر وہ رات ہی رات رکھے تو کوئی دن نہیں کر سکتا اور اگر دن ہی دن رکھے تو کوئی رات نہیں لا سکتا۔ اگر سورج نہ نکلتا تو سائے کا حال ہی معلوم نہ ہوتا۔ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ سائے کے پیچھے دھوپ، دھوپ کے پیچھے سایہ، یہ بھی قدرت کا انتظام ہے۔ پھر سہج سہج ہم اسے یعنی سائے کو یا سورج کو اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک گھٹتا جاتا ہے تو دوسرا بڑھتا جاتا ہے اور یہ انقلاب سرعت سے عمل میں آتا ہے۔ کوئی جگہ سایہ دار باقی نہیں رہتی۔ صرف گھروں کے چھپڑوں کے اور درختوں کے نیچے سایہ رہ جاتا ہے اور ان کے بھی اوپر دھوپ کھلی ہوئی ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا کر کے ہم اسے اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔

صفحہ نمبر6069

اسی نے رات کو تمہارے لیے لباس بنایا ہے کہ وہ تمہارے وجود پر چھا جاتی ہے اور اسے ڈھانپ لیتی ہے جیسے فرمان ہے: قسم ہے رات کی جبکہ ڈھانپ لے، اسی نے نیند کو سبب راحت و سکون بنایا ہے کہ اس وقت حرکت موقوف ہو جاتی ہے۔ اور دن بھر کے کام کاج سے جو تھکن چڑھ گئی تھی، وہ اس آرام سے اتر جاتی ہے۔ بدن کو اور روح کو راحت حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر دن کو اٹھ کھڑے ہوتے ہو، پھیل جاتے ہو۔ اور روزی کی تلاش میں لگ جاتے ہو۔

جیسے فرمان ہے کہ ” اس نے اپنی رحمت سے رات دن مقرر کر دیا ہے کہ تم سکون و آرام بھی حاصل کر لو اور اپنی روزیاں بھی تلاش کرو۔ “ [28-القصص:73] ‏

صفحہ نمبر6070