登入
登入
登入
选择语言

经注: An-Nur 24:27

24:27
يا ايها الذين امنوا لا تدخلوا بيوتا غير بيوتكم حتى تستانسوا وتسلموا على اهلها ذالكم خير لكم لعلكم تذكرون ٢٧
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَدْخُلُوا۟ بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا۟ وَتُسَلِّمُوا۟ عَلَىٰٓ أَهْلِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ٢٧
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
لَا
تَدۡخُلُواْ
بُيُوتًا
غَيۡرَ
بُيُوتِكُمۡ
حَتَّىٰ
تَسۡتَأۡنِسُواْ
وَتُسَلِّمُواْ
عَلَىٰٓ
أَهۡلِهَاۚ
ذَٰلِكُمۡ
خَيۡرٞ
لَّكُمۡ
لَعَلَّكُمۡ
تَذَكَّرُونَ
٢٧
信道的人们啊!你们不要进他人的家去,直到你们请求许可, 并向主人祝安。这对于你们是更高尚的,(真主这样指导你们),以便你们能记取教诲。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
شرعی آداب ٭٭

شرعی ادب بیان ہو رہا ہے کہ ” کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت مانگو، جب اجازت ملے، جاؤ پہلے سلام کرو، اگر پہلی دفعہ کی اجازت طلبی پر جواب نہ ملے تو پھر اجازت مانگو۔ تین مرتبہ اجازت چاہو اگر پھر بھی اجازت نہ ملے تو لوٹ جاؤ “۔

صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ تین دفعہ اجازت مانگی، جب کوئی نہ بولا تو آپ رضی اللہ عنہ واپس لوٹ گئے۔ تھوڑی دیر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا! دیکھو عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ آنا چاہتے ہیں، انہیں بلا لو لوگ گئے، دیکھا تو وہ چلے گئے ہیں۔ واپس آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خبر دی۔ دوبارہ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہا نے پوچھا آپ رضی اللہ عنہ واپس کیوں چلے گئے تھے؟ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ تین دفعہ اجازت چاہنے کے بعد بھی اگر اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جاؤ ۔

صفحہ نمبر5900