登入
登入
登入
选择语言

Bayan ul Quran 经注: Al-Mu'minun 阿雅 56

23:56
نسارع لهم في الخيرات بل لا يشعرون ٥٦
نُسَارِعُ لَهُمْ فِى ٱلْخَيْرَٰتِ ۚ بَل لَّا يَشْعُرُونَ ٥٦
نُسَارِعُﳀ
لَهُمۡﳁ
فِيﳂ
ٱلۡخَيۡرَٰتِۚﳃﳄ
بَلﳅ
لَّاﳆ
يَشۡعُرُونَﳇ
٥٦ﳈ
是我用来使他们快得福利的(手段)吗?不然,他们是不晓得的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
23:56至23:58节的经注

آیت 56 نُسَارِعُ لَہُمْ فِی الْْخَیْرٰتِط بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ ”ہماری طرف سے اپنے ان نافرمانوں کو مال و اولاد جیسی نعمتوں سے نوازتے چلے جانا ان کے ساتھ بھلائی کی علامت نہیں ہے بلکہ یہی چیزیں ان کے لیے موجب عذاب بن جائیں گی۔ سورة التوبہ میں یہ فلسفہ اس طرح بیان ہوا ہے : فَلاَ تُعْجِبْکَ اَمْوَالُہُمْ وَلآَ اَوْلاَدُہُمْط اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ بِہَا فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَتَزْہَقَ اَنْفُسُہُمْ وَہُمْ کٰفِرُوْنَ ”تو اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو ان کے اموال اور ان کی اولاد سے تعجب نہ ہو ‘ اللہ تو چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعے سے انہیں دنیا کی زندگی میں عذاب دے ‘ اور ان کی جانیں نکلیں اسی کفر کی حالت میں“۔ اور سورة التوبہ ہی کی آیت 85 میں الفاظ کے بہت معمولی فرق کے ساتھ یہی مضمون پھر سے دہرایا گیا ہے۔آگے جو آیات آرہی ہیں ان کا انداز اس سورت کی ابتدائی آیات سے مشابہ ہے۔ سورت کے آغاز میں اکثر آیات اَلَّذِیْنَ یا والَّذِیْنَ سے شروع ہوتی ہیں اور ان آیات میں بھی اَلَّذِیْنَ اور والَّذِیْنَ کی تکرار ہے۔ گویا جو مضمون آغاز سورت میں بیان ہوا تھا یہ اس کی دوسری قسط ہے۔ وہاں پر بندۂ مؤمن کی سیرت کی تعمیر اور شخصیت کے ارتقاء کے لیے درکار بنیادی خصوصیات کا ذکر کیا گیا تھا جبکہ یہاں پر مطلوبہ شخصیت و کردار کی پختہ mature خصوصیات کی جھلکیاں دکھائی جا رہی ہیں ‘ جن میں زیادہ تر بندۂ مؤمن کی باطنی کیفیات کا تذکرہ ہے۔