登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Munafiqun 63:5

63:5
واذا قيل لهم تعالوا يستغفر لكم رسول الله لووا رءوسهم ورايتهم يصدون وهم مستكبرون ٥
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ ٱللَّهِ لَوَّوْا۟ رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ ٥
وَإِذَا
قِيلَ
لَهُمۡ
تَعَالَوۡاْ
يَسۡتَغۡفِرۡ
لَكُمۡ
رَسُولُ
ٱللَّهِ
لَوَّوۡاْ
رُءُوسَهُمۡ
وَرَأَيۡتَهُمۡ
يَصُدُّونَ
وَهُم
مُّسۡتَكۡبِرُونَ
٥
有人对他们说:你们来道歉吧,使者将为你们求饯。他们却掉头不顾,你看他们妄自尊大,不肯道歉。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
منافقوں کی محرومی سعادت کے اسباب ٭٭

ملعون منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” ان کے گناہوں پر جب ان سے سچے مسلمان کہتے ہیں کہ آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ تمہاے گناہ معاف فرما دے گا تو یہ تکبر کے ساتھ سر ہلانے لگتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں اور رک جاتے ہیں اور اس بات کو حقارت کے ساتھ رد کر دیتے ہیں، اس کا بدلہ یہی ہے کہ اب ان کے لیے بخشش کے دروازے بند ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار بھی انہیں کچھ نفع نہ دے گا، بھلا ان فاسقوں کی قسمت میں ہدیات کہاں؟ “

سورۃ براۃ میں بھی اسی مضمون کی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس کی تفسیر اور ساتھ ہی اس کے متعلق کی حدیثیں بھی بیان کر دی گئی ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سفیان راوی نے اپنا منہ دائیں جانب پھیر لیا تھا اور غضب و تکبر کے ساتھ ترچھی آنکھ سے گھور کر دکھایا تھا اسی کا ذکر اس آیت میں ہے اور سلف میں سے اکثر حضرات کا فرمان ہے کہ یہ سب کا سب بیان عبداللہ بن ابی بن سلول کا ہے جیسے کہ عنقریب آ رہا ہے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

صفحہ نمبر9522